صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 853 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 853

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۳ ۹۷ - كتاب التوحيد آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت وَلَا تَقُولُنَ لِشَايْ ءٍ إِنِّي فَاعِل ذلِكَ غدا ا سے مخالف پڑی ہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۸،۴۷) إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا: ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اگر وہ ہمیں اُٹھانا چاہے تو ہمیں اٹھا دے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: حضرت علی کے عذر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم متاثر ہو کر واپس نہیں ہوئے بلکہ اس ادب کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کا آپ کے دل میں تھا۔اللہ تعالیٰ کا نام سن کر آپ رُک گئے اور انہیں کچھ نہیں کہا۔اگر حضرت علی کی معذرت میں معقولیت ہوتی تو آپ یہ نہ فرماتے۔وَكَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (الكهف : ۵۵) جبکہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔آپ کا ران پر ہاتھ مارنا بھی درحقیقت افسوس کا اظہار تھا اور حضرت علی کا جواب قطعاً درست نہ تھا۔بے شک اللہ تعالیٰ ہی سلا تا اور جگاتا ہے۔مگر اس نے نیت و عزم جیسی قوتیں بھی انسان کو عنایت کی ہیں۔جن سے اگر وہ کام لے تو دنیا میں کونسی مشکل ہے جو حل نہیں ہو سکتی۔تو۔فطرتی قوتوں سے کام لینا بھی تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہے۔تقدیر کے یہ معنے نہیں کہ انسان جو بُرا کام کرے یا غفلت اس سے سرزد ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء سے ہوتی ہے۔منشاء الہی تو یہ ہے کہ غفلت نہ ہو۔“ ا (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب التهجد، باب تخريض التربي ، جلد ۲، صفحه ۵۱۹،۵۱۸) فَأُوحِيَ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرُ : اس پر حضرت موسیٰ کو وحی کی گئی نہیں بلکہ ہمارا بندہ خضر زیادہ عالم ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: علم ایک بے پایاں سمندر ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے نبی بھی استقلال سے کام نہ لے سکے اور وہ متحیر رہ گئے اور یہ کہ علم در حقیقت اس حکمت یعنی حقائق الاشیاء کا نام ہے جس کا ایک نمونہ حضرت موسیٰ اور خضر کے واقعہ میں ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ العِلْمِ ، بَاب مَا ذُكِرَ فِي ذَهَابِ مُوسَى في البَحْرِ ، جلدا، صفحه ۱۴۷)