صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 852 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 852

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۲ ۹۷ - كتاب التوحيد تصرف سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ یقینی امر ہے کہ جو شخص سچے دل سے انشاء اللہ کہہ کر اپنے کام میں اللہ تعالیٰ کو شامل کرلے گا جب اس کام کا وقت آئے گا تو وہ اسے نیکی اور تقویٰ کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۳۶۰) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معدوم کو موجود کر نا خدا کا کام ہے مخلوق میں۔ہاں حیوان اور انسان کے دل میں کسی ارادے اور مشیت کا پیدا کر دینا بیشک باری تعالیٰ کا کام ہے۔الا ہر ایک منصف جانتا ہے کہ صرف مشیت اور ارادے کے وجود سے کسی فعل کا وجود ضروری اور لازمی امر نہیں۔یقینا قوی فطری کا خلق اور عطا کرنا جن پر ہر گونہ افعال کا وجود و ظهور مترتب اور منتفرع ہو سکتا ہے۔خالق ہی کا کام ہے۔اس لطیف نکتہ کے سمجھانے کے لئے اور نیز اس امر کے اظہار کرنے کو قومی طبعی اور کائنات سے کوئی وجو د اصل امر خلق میں شریک نہیں۔سب اشیاء کی علت العلل میں ہی ہوں۔باری تعالیٰ سب افعال کو بلکہ ان افعال کو بھی جو ہم معائنہ اور مشاہدہ کے طور پر انسان اور حیوان سے سرزد ہوتے دیکھتے ہیں۔اپنی طرف نسبت کرتا ہے۔کہیں قرآن میں فرماتا ہے۔ہوا بادلوں کو ہانک لاتی ہے۔کہیں فرماتا ہے۔ہم بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ہم ہی گایوں اور بھینسوں کے تھنوں میں دودھ بناتے ہیں۔ہم ہی اناج بوتے ہیں۔ہم ہی کھیت اگاتے ہیں۔اور تامل کے بعد یہ سب نسبتیں جو ظاہراً متضاد الطرفین ہیں، بالکل صحیح اور حقیقتہ بالکل صداقت ہیں۔“ حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۳۳۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاءُ إِنِّي فَاعِل ذلك غدا (الكهف: ۲۴) سو جبکہ سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تو میں سات دن کا کیونکر دعویٰ کروں۔اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تر ڈر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو