صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 851 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 851

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۱ ۹۷ - كتاب التوحيد جرَاحَاتٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کل صبح لڑائی شروع کر دو۔چنانچہ صبح کو وہ لڑنے وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ لگے اور انہیں زخم لگے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ فرمایا کل ہم انشاء اللہ لوٹ جائیں گے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات انہیں پسند آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أطرافه: ٤٣٢٥، ٦٠٨٦ - ريح : فِي الْمَشِيئَةِ وَالْإِرَادَة : مثبت اور ارادے کے متعلق۔خدا تعالی جو گل عالم اور گل اشیاء کا خالق و مالک ہے اور ہر امر پر جس کا وہ ارادہ کرے کامل قدرت رکھتا ہے۔اور وہ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ ( البقرة : ۲۵۶) یعنی اس کا علم آسمانوں پر (بھی) اور زمین پر (بھی) حاوی ہے، کا مظہر ہے۔اس لیے اس کے ارادے اور مشیئت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ مضمون کھول کر بیان کیا گیا ہے مثلاً یہ مختصر اور جامع دعا: لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِالله (صحیح البخاری، كِتَابُ الدَّعَوَاتِ، بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا عَلَا عَقَبَةً، روایت نمبر ۱۳۸۴) یعنی نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت، مگر اللہ ہی کی مدد سے۔نیز یہ دعالَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىءٍ قَدِيرُ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطى لِمَا مَتَعْت (صحيح البخارى، كتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوة، روایت نمبر ۶۳۳۰) یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہت ہے۔اور اسی کی تمام تعریفیں ہیں۔اور وہ ہر بات پر بڑا ہی قادر ہے۔اے اللہ کوئی روکنے والا نہیں جو تو دے اور کوئی دینے والا نہیں جو تو روک دے۔کسی صاحب حیثیت (مال، حسب و نسب وغیرہ) کو اس کی حیثیت تیرے مقابل پر فائدہ نہیں دے گی۔زیر باب روایت میں یہ مضمون مختلف مثالوں سے واضح کیا گیا ہے جیسے حضرت سلیمان کی دعا اور ارادہ و غیرہ۔امر واقعہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہ کوئی دعا قبول ہو سکتی ہے اور نہ رڈ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” سچے دل سے انشاء اللہ کہنا روحانی ترقی سے بہت کچھ تعلق رکھتا ہے۔زندگی سے ماضی انسان کے بس سے نکل چکا ہوتا ہے۔حال اتنا چھوٹا عرصہ ہے کہ درحقیقت وہ ماضی اور مستقبل کی سرحد کا نام ہے۔باقی رہا مستقبل، سو وہی اصل زمانہ ہے جس سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پس جب انسان مستقبل کے کاموں کے ساتھ انشاء اللہ کہتا ہے تو اپنے ارادہ اور فعل میں خدا تعالیٰ کو شامل کر لیتا ہے اور اس طرح انہیں شیطانی