صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 850
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵۰ ۹۷۔کتاب التوحيد خَضِرًا وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ الله تھے۔اس پر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشان کا کھوج لیتے ہوئے واپس لوٹے اور انہوں نے خضر کو پالیا۔پھر ان کا وہی واقعہ ہے جو اللہ نے بیان کیا۔أطرافه ٧٤، ٧٨ ،۱۲۲ ، ،۲۲۶۷، ۲۷۲۸، ۳۲۷۸، ۳۴۰۰، ٤٠۰۱، ٤٧٢٥، ٤٧٢٦، -٤٧٢٧ ٦٦٧٢ ٧٤٧٩: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۴۷۹: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ نيز احمد بن صالح نے کہا کہ ابن وہب نے ہم سے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتایا انہوں نے ابن شہاب عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ سے ابن شہاب نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے، رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ قَالَ نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ بِخَيْفِ نے رسول اللہ صلی علیم سے روایت کی۔آپ نے بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى فرمايا: ہم کل انشاء اللہ بنو کنانہ کے ٹیلہ پر اتریں الْكُفْرِ يُرِيدُ الْمُحَصَّبَ۔گے جہاں لوگوں نے کفر پر اڑے رہنے کی آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔آپ کی مراد محصب تھی۔أطرافه ،۱۰۸۹ ، ۱۰۹۰، ٣٨۸۲، ٤٢٨٤، ٤٢٨٥۔٧٤٨٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۷۴۸۰: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو سے، أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عمرو نے ابو العباس سے، ابو العباس نے حضرت قَالَ حَاصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا صلى اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کا محاصرہ کیا فَقَالَ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ فَقَالَ مگر اس کو فتح نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ الْمُسْلِمُونَ نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ قَالَ کل لوٹ جائیں گے۔مسلمان بولے: کیا ہم لوٹ فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ فَغَدَوْا فَأَصَابَتْهُمْ جائیں اور ہم نے فتح نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: پھر