صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 847
صحیح البخاری جلد ۱۶ AMZ ۹۷ - كتاب التوحيد بْنِ جَمِيلِ اللَّحْمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی أَنَا نَائِمْ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبِ فَنَزَعْتُ اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے اپنے تئیں ایک مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَنْزِعَ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ کنوئیں پر دیکھا جتنا اللہ نے چاہا کہ میں پانی نکالوں أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ میں نے نکالا۔پھر ابن ابی قحافہ نے ڈول لے لیا وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ کے کھیچنے میں کچھ کمزوری رہی اور اللہ نے ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر کیا۔پھر عمر نے ڈول لیا۔پھر وہ ڈول چر سا (بڑا ڈول ہو گیا اور میں نے لوگوں میں کوئی ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو وہ حیرت انگیز کام کرتا ہو جو عمر عَبْقَرِيًّا مِّنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ۔نے کیا۔اتنا پانی نکالا کہ لوگ اس کنوئیں کے ارد گرد اپنے اپنے تھانوں میں جابیٹھے۔أطرافه: ٣٦٦٤، ۷۰۲۱، ۷۰۲۲- ٧٤٧٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ :۷۴۷۶ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید سے، بُرید أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كَانَ نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابو موسی سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا السَّائِلُ وَرُبَّمَا قَالَ جَاءَهُ السَّائِلُ معمول تھا جب آپ کے پاس کوئی سائل آتا۔أَوْ صَاحِبُ الْجَ قَالَ اشْفَعُوا اور کبھی حضرت ابو موسیٰ نے یوں کہا: کوئی سائل فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ یا حاجت مند آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے : تم