صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 847 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 847

صحيح البخاری جلد ١٦ ۸۴۷ ۹۷- كتاب التوحيد بْنِ جَمِيلِ اللَّحْمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سعید نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ انہوں رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبِ فَنَزَعْتُ اثنامیں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے اپنے تئیں ایک مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَنْزِعَ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ کنوئیں پر دیکھا جتنا اللہ نے چاہا کہ میں پانی نکالوں أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ میں نے نکالا۔ پھر ابن ابی قحافہ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ کے کھینچنے میں کچھ کمزوری رہی اور اللہ نے ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر عَبْقَرِيًّا مِّنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى رم کیا۔ پھر عمر نے ڈول لیا۔ پھر وہ ڈول چرسا (بڑا ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ۔ ڈول ) ہو گیا اور میں نے لوگوں میں کوئی ایسا شہ أطرافه: ٣٦٦٤، ٧٠٢١، ٧٠٢٢۔ زور نہیں دیکھا جو وہ حیرت انگیز کام کرتا ہو جو عمر نے کیا۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ اس کنوئیں کے ارد گرد اپنے اپنے تھانوں میں جا بیٹھے۔ ٧٤٧٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۷۴۷۶: محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید سے ، بُرید الله أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كَانَ نے ابو بردہ سے ، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا السَّائِلُ وَرُبَّمَا قَالَ جَاءَهُ السَّائِلُ معمول تھا جب آپ کے پاس کوئی سائل آتا۔ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ اشْفَعُوا اور کبھی حضرت ابو موسیٰ نے یوں کہا: کوئی سائل فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللهُ عَلَى لِسَانِ یا حاجت مند آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے : تم