صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 844 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 844

صحیح البخاری جلد ۱۶ لوم سوم بار ۹۷ - كتاب التوحيد ٧٤٧٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۴۷۰ محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبد الوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔خالد حذاء نے ہم الْحَدَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ سے بیان کیا۔خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس اس کی عیادت کے لئے آئے اور آپ نے فرمایا: تمہیں کوئی خوف نہیں۔ان شاء اللہ یہ بیماری پاک کرنے کا موجب ہو گی۔حضرت ابن عباس کہتے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِي يَعُودُهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ عَلَيْكَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ طَهُورٌ بَلْ هُوَ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخِ كَبِيرٍ تھے : اس بدوی نے کہا: پاک کرنے کا موجب نہیں تُزِيرُهُ الْقُبُورَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا۔أطرافه: ٣٦١٦، ٥٦٥٦، ٥٦٦٢۔بلکہ یہ بخار ہے جو بہت بڑے بوڑھے پر جوش مار رہا ہے اس کو قبروں ہی کی زیارت کرائے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہی سہی۔٧٤٧١: حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۷۴۷۱: ابن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین سے حصین نے أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ حِينَ نَامُوا عَنِ عبد اللہ بن ابی قتادہ سے، عبد اللہ نے اپنے باپ الصَّلَاةِ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ اللهَ قَبَضَ سے روایت کی۔جب لوگ سوئے رہے نماز نہ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ پڑھ سکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَتَوَضَّئُوا إِلَى أَنْ تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ فَقَامَ اور جب چاہا ان کو لوٹا دیا۔آخر لوگوں نے اپنی اپنی حاجتیں پوری کیں اور وضو کیا یہاں تک کہ سورج فَصَلَّى۔طرفه ٥٩٥۔نکل آیا اور اچھی طرح روشن ہو گیا۔(اس وقت) آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز پڑھائی۔1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں بھی “ ہے۔(فتح الباری جزء۱۳ حاشیہ صفحہ ۵۵۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔