صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 842
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۴۲ ۹۷ - كتاب التوحيد قِيرَاطًا قِيرَاطًا ثُمَّ أُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ آگئے اور انہیں ایک ایک قیراط مزدوری دی فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غُرُوبِ الشَّمْس گئی۔پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم اس کے مطابق فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ قَالَ سورج کے ڈوبنے تک کام کرتے رہے اور تمہیں أَهْلُ التَّوْرَاةِ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا دو دو قیراط دئے گئے۔اہل تو رات کہنے لگے: اے وَأَكْثَرُ أَجْرًا قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ ہمارے رب ! ان لوگوں نے کام تو تھوڑا کیا ہے اور أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالُوا لَا فَقَالَ مزدوری ان کو زیادہ دی گئی ہے۔رب نے فرمایا: فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ کیا تمہاری مزدوری میں سے میں نے تم کو کچھ گھٹا کر دیا ہے ؟ وہ بولے نہیں۔تو پروردگار نے فرمایا: تو پھر یہ میرافضل ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں۔أطرافه ۱٥٧، ۲۲۶۸، ۲۲۶۹، ٣٤٥۹، ٥٠٢١، ٧٥٣٣۔٧٤٦٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْمُسْنَدِيُّ :۷۴۶۸: عبد اللہ مسندی نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ہشام نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔معمر نے عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ زہری سے ، زہری نے ابو اور میں سے ، ابوادر میں قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کی۔انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ فَقَالَ أُبَايِعُكُمْ نے کہا: میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ عَلَى أَنْ لَّا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا وَلَا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔آپ نے فرمایا: تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ میں تم سے ان باتوں پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کا وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانِ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراؤ گے نہ تم چوری کرو وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ گے نہ زنا کرو گے نہ اپنی اولاد کو قتل کرو گے اور نہ فَمَنْ وَّفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ تم دیکھتے بھالتے اپنے ہاتھوں سے کوئی بہتان باندھو وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُخِذَ گے اور نہ کسی بھلی بات میں تم میری نافرمانی کرو بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ گے۔سو جس نے تم میں سے وفاداری کی تو اس کا