صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 841
صحیح البخاری جلد ۱۶ AMI ۹۷ - كتاب التوحيد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی مثال کھیتی خَامَةِ الزَّرْع يَفِيءُ وَرَقَهُ مِنْ حَيْثُ کے نرم پودے کی سی ہے جدھر ہوا اس کے پاس أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّتُهَا فَإِذَا سَكَنَتْ آکر اس کو جھکاتی ہے ادھر ہی کو اس کے پتے اعْتَدَلَتْ وَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ يُكَفَّا جھک جاتے ہیں۔جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ بھی بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اور مؤمن بھی اسی طرح صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةٌ حَتَّى يَقْصِمَهَا اللهُ إِذَا ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے ذریعہ سے جھک جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو سخت سیدھا کھڑا رہتا ہے تاوقتیکہ اللہ اسے شَاءَ طرفه: ٥٦٤٤- جب چاہے توڑ ڈالے۔٧٤٦٧: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ۷۴۶۷: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي شعیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ روایت کی کہ سالم بن عبد اللہ نے مجھے خبر دی کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولَ إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا اِس وقت منبر پر کھڑے فرمارہے تھے : جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان کے مقابل پر تم اتنا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنْ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ ہی عرصہ رہو گے کہ جتنا عرصہ عصر کی نماز سے صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ سورج کے ڈوبنے تک ہوتا ہے۔اہل تورات کو أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا تورات دی گئی اور وہ اس کے مطابق عمل کرتے بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ثُمَّ عَجَزُوا رہے یہاں تک کہ دو پہر ہو گئی۔پھر وہ عاجز آگئے فَأَعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ثُمَّ أُعْطِيَ أَهْلُ اور انہیں ایک ایک قیراط مزدوری دی گئی پھر الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور اس کے مطابق عصر صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا فَأَعْطُوا کی نماز تک کام کرتے رہے پھر اس کے بعد وہ عاجز