صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 836
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۳۶ ۹۷- كتاب التوحيد نَفِدَتْ كَلِمتُ (لقمان: ۲۸) إِنَّ رَبَّكُم بعد سات سمندر بھی روشنائی مہیا کرتے چلے جائیں اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمُوتِ وَ الْأَرْضَ فِي تو اللہ کے کلمات کبھی ختم نہ ہوں (اور اللہ تعالیٰ کا سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یہ فرمانا: یعنی تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے ان يُغْشِي اليْلَ النَّهَارِ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا و بلندیوں اور اس زمین کو چھ مقررہ اوقات میں الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَ النُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بنایا۔ پھر وہ عرش پر کامل تجلی کے ۔ پر کامل جھلی کے ساتھ ظاہر ہوا۔ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبْرَكَ دن کو رات سے ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (الاعراف: ٥٥) پیچھے لگا تار دوڑ دھوپ کر رہی ہے اور سورج اور سَخَّرَ ذَلَّلَ۔ چاندا باند اور ستارے اس کے حکم سے قابو کئے ہوئے ہیں۔ دیکھو خلق اور امر اسی کا ہے۔ اللہ جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے بہت برکتوں والا ہے۔ سخر کے معنی ہیں: اس نے مطیع بنایا۔ ٧٤٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۷۴۶۳ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لا وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اُس کو صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اس کی يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ بات کی تصدیق کرنا ہی اس کے گھر سے نکال رہا ہو، اللہ ایسے شخص کے لئے ضامن ہو گیا ہے کہ اس تَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ کو جنت میں داخل کرے گا یا اس کو اس کے اپنے أَوْ غَنِيمَةٍ۔ ٹھکانے کی طرف مع اس اجر یا غنیمت کے جو اس نے حاصل کیا ہو لوٹائے گا۔ أطرافه: ۳٦، ۲۷۸۷، ۲۷۹۷، ۲۹۷۲، ۳۱۲۳، ۷۲۲۶، ۷۲۲۷، ٧٤٥٧۔