صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 837
صحيح البخاری جلد ۱۲ ۸۳۷ ۹۷ - كتاب التوحيد تشریح : قُلْ لَوْ كَانَ ا۔قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِيتِ رَبِّي۔۔۔۔کہو اگر میرے رب کے کلمات کے لئے سمندر روشنائی ہو جائیں تو وہ سمندر پیشتر اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں ضرورختم ہو جائیں گے گو ہم اتنے ہی اور سمندر اس کی مدد کو لے آئیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کی یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خد اتعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بینظیر ہے اور انسانی طاقتیں اُسکا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اسی حالت میں بے نظیر ٹھہر سکتی ہے جبکہ اس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خدا تعالیٰ کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائیگا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہونگے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف: ۱۱۰) اپنے ایک معنے کی روسے اسی امر کی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رُو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں اور اسی کی بناء پر یہ آیت ہے کہ كَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ (النساء: ۱۷۲) کیونکہ ابن مریم میں دوسری مخلوقات میں سے کوئی امر زیادہ نہیں اگر وہ کلمتہ اللہ ہے تو آدم بھی کلمتہ اللہ ہے اور اس کی اولاد بھی کیونکہ ہر یک چیز کن فیکون کے کلمہ سے پید اہوئی ہے اسی طرح مخلوقات کی صفات اور خواص بھی کلمات ربی ہیں یعنی مجازی معنوں کی روسے کیونکہ وہ تمام کلمہ کن فیکون سے نکلے ہیں۔سوان معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بیحد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بیحد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پر مشتمل ہے تو پھر کیونکر قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک