صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 835
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۳۵ ۹۷- كتاب التوحيد آیت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ (النور : (۵۶) میں اس کا صریح وعدہ ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے: تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳۷، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۱۲۳) يأتي أمر الله سے مراد وہی پیشگوئی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح طور پر بتلایا ہے کہ یہ امت بھی اپنے بد عقائد اور بدکرداری میں عیسائیوں اور یہودیوں کا وتیرہ اختیار کرلے گی۔ اگر مسیح کے پوجاری مسیح کو آسمان پر چڑھائیں گے اور خالق الارواح اور محي الاموات مانیں گے تو یہ بھی مانیں گے اور یہودیوں کی طرح اپنی بد کرداریوں اور گندے اخلاق کی وجہ سے ذلیل اور خوار ہوں گے اور سارے جہان کی لعنت اور انگشت نمائی کا محل بنیں گے ۔ سو آج ایسا ہی ہوا۔ یہ وہ امر اللہ ہے جو ان کے لئے مقدر تھا۔ سورہ مومنون میں اسی امر اللہ کے متعلق پیشگوئی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِينَ (المؤمنون: (۳) اور ہم بہر حال ابتلاء لانے والے تھے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرنے کے لئے فرمایا: وَقُلْ رَبّ انْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبْرَكًا وَ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ ) ( المؤمنون: ۳۰) اور تو کہہ کہ اے میرے رب ! تو مجھے ایک مبارک اُترنے کی جگہ پر اُتار اور تو اُتارنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، كِتَابُ العِلْمِ ، بَابُ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِهُهُ، جلدا، صفحہ ۱۴۳) باب ۳۰ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمْتُ رَبِّي وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف : ١١٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: کہو اگر میرے رب کے کلمات کے لئے سمند ر روشنائی ہو جائیں تو وہ سمندر پیشتر اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں ضرورختم ہو جائیں گے گو ہم اتنے ہی اور سمندر اس کی مدد کو لے آئیں وَ لَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامُ وَ اور اگر جو درخت بھی کہ زمین میں ہیں سب کی الْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا قلمیں بنائی جائیں! جائیں اور سمندر روشنائی بنیں جس کے