صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 834
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷- كتاب التوحيد والے واقعہ میں کام کر رہا تھا۔ آپ نے سمجھا جب خدا تعالیٰ کہہ رہا ہے کہ ابو بکر خلیفہ بنے گا تو مسیلمہ اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتا ہے۔" حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( تفسیر کبیر جلد ۹ صفحه ۱۲۴، ۱۲۵) مسیلمہ نے ۱۱ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اخیر وفات پر دعویٰ نبوت کیا اور اسی 11 ہجری میں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فوجی افسروں نے اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے مسیلمہ کو ہلاک کر دیا۔ بس اس کا فساد ایک ہی سال کے اندر اندر ہے " ارشادات نور جلد اول صفحہ ۹۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یہ کبھی اتفاق نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کاذب کی تائید کر کے سچوں کو شکست دی ہو۔ آنحضرت صلی العلیم کے زمانہ میں آپ کے مقابلہ پر الہام کے مدعی موجود تھے اور وہ آپ کو جھوٹا خیال کرتے تھے۔ مسیلمہ کذاب بھی انہی میں تھا۔ اگر قول پر مدار ہوتا تو اشتباہ رہتا مگر آخر فعل الہی نے فیصلہ کر دیا۔ دیکھ لو کہ اب کس کے دین کا نقارہ بج رہا ہے کس کا نام روشن ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس کو برکت دی جاتی ہے وہ بڑھتا ہے وہ پھلتا اور پھولتا ہے اور اس کے دشمنوں پر اُسے فتح پر فتح ملتی ہے۔ لیکن جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا وہ مثل جھاگ کے ہوتا ہے جو کہ بہت جلد نابود ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو کوئی دھو کہ نہیں دے سکتا۔ جس کا مدار تقویٰ پر ہو گا اور جس کے خدا تعالیٰ کے ساتھ پاک تعلقات ہوں گے اسی کو نصرت ہو گی۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ ۲۳۴) لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ الله: میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے یہ مراد ہے کہ ہمیشہ اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ خود سکھائے گا اور وہ امت کے لئے رہنما ہوں گے۔ کوئی زمانہ ایسے ربانی فقیہوں سے خالی نہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ سے نور پا کر اُمت کے اندر تجدید کرنے والے اور اس کو مخالفین کے بد اثر سے نجات دینے والے نہ ہوں گے۔ جیسا کہ