صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 833 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 833

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۳۳ ۹۷- كتاب التوحيد دیر سے ظہور میں آتے ہیں۔ “ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب اپنے قبیلہ کے سر کردہ لوگوں کو لے کر آپ کے پاس آیا۔ اُس کی پشت پر اس کی قوم کا ایک لاکھ سپاہی تھا۔ اس نے صرف یہ مطالبہ کیا کہ مجھے وفات کے بعد خلیفہ بنا دیا جائے۔ مگر رسول کریم صلی الم نے اس کا جواب یوں دیا کہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ خلافت تو الگ رہی یہ تنکا بھی تمہیں نہ دیا جائے گا۔ اور میرے معاملہ میں وہی ہو گا جو خدا تعالیٰ چاہے گا یعنی وہی شخص خلافت کے مقام پر کھڑا ہو گا جس کو خدا تعالیٰ خود کھڑا کرنا چاہے گا۔ تم ان معاملات میں دخل دینے والے کون ہو۔ مسیلمہ غصے اور ناراضگی کی حالت میں واپس چلا گیا اور اپنی قوم سمیت اسلام سے مرتد ہو گیا۔ جب رسول کریم لی اعلام وفات پاگئے تو وہ ایک لاکھ سپاہی اپنے ساتھ لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی پہلے کسی حملہ میں مثال نہیں ملتی۔ صحابہ اس جنگ میں اس طرح مارے گئے جس طرح چنے بھونے جاتے ہیں اور وہ شکست کھا کر واپس لوٹ گئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے سرداران لشکر کو حکم دے دیا کہ ان میں سے کوئی شخص آئندہ مدینہ میں میرے سامنے نہ آئے۔ یہ سزا جو ان سرداران لشکر کو دی گئی بتاتی ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا کیسا صدمہ ہوا تھا۔ مگر باوجود اس کے که خطرہ حقیقی تھا اور مسیلمہ اور اس کی قوم کا ارتداد بہت سی مشکلات کا موجب بن سکتا تھا، رسول کریم صلی الم نے اس کی ذرا بھی پروانہ کی۔ ایک تنکا اٹھا کر کہا کہ تم ی خلافت مانگتے ہو تمہیں تو یہ تنکا بھی نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خدا تعالیٰ کی ایک امانت ہے اور اسی شخص کے پاس جائے گی جو اس امانت کا بہترین اہل ہو۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی شروع سے لے کر آخر تک أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کا ایک بین اور واضح ثبوت ہے۔ ہر مقام پر آپ نے اُس غیر متزلزل یقین کا ثبوت دیا جو آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا اور یہی یقین تھا جو مسیلمہ کذاب