صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 832 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 832

صحيح البخاری جلد ۱۲ ۸۳۲ ۹۷ - كتاب التوحيد اللہ تعالیٰ جب کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر کوئی چیز اس کے ارادہ میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔وہ ادھر کُن کہتا ہے اور اُدھر اس کا فیصلہ دنیا میں نافذ ہو جاتا ہے۔اس میں ایک تو اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ نہ صرف پیدائش عالم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بلکہ فتا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۱۳۹) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ن کے معنے ہو جا۔فَيَكُونُ کے معنے ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چیز ظہور میں آجاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ گن کا تعلق بعد الموت ہوا کرتا ہے۔تمام قرآن کریم میں مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر کُن فرمایا ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد اول صفحہ ۴۸۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”سب کچھ گن سے یعنی حکم سے ہی پیدا کیا گیا ہے خواہ لاکھوں برسوں میں ایک چیز بنے اور خواہ کروڑوں برسوں میں مگر اول خدا کا حکم ہونا ضروری ہے ہر ایک شخص جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا جو ہر ایک محو واثبات حکم الہی سے وابستہ ہے ہاں جو شخص دہر یہ اور خد اتعالیٰ سے منکر ہے اس کا یہ قول ہو گا کہ ہر ایک چیز بغیر ضرورت حکم کے خود بخود بن جاتی ہے مگر جب کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی تو اس سے ہر ایک ایماندار کو ماننا پڑتا ہے کہ کوئی چیز بغیر اس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی کسی طاقت کی مجال نہیں ہے کہ بغیر خدا تعالٰی کے حکم کے کچھ کام کر سکے۔۔۔خدا کا حکم اس طرح پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ فی الفور بلا توقف ہو جاتی ہے کیونکہ آیت میں فی الفور کا لفظ نہیں ہے بلکہ آیت اطلاق پر دلالت کرتی ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ اس امر کو جلدی سے کر دے اور چاہے تو اس میں دیر ڈال دے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں بھی یہی مشہود و محسوس ہے کہ بعض امور جلدی سے ہو جاتے ہیں اور بعض