صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 831
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۳۱ ۹۷- كتاب التوحيد إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى ہے، علقمہ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضٍ حَرْثِ انہوں نے کہا: ایک بار میں مدینہ کے کسی کھیت الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّا عَلَى عَسِيبٍ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور مَعَهُ فَمَرَرْنَا عَلَى نَفَرٍ مِّنَ الْيَهُودِ آپ ایک کھجور کی چھٹی پر سہارا لے رہے تھے فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ جو آپ کے پاس تھی۔ اسی اثنا میں ہم یہودیوں فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ أَنْ يُجِيءَ کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان سے روح کے متعلق پوچھو۔ تو ان فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ میں سے کسی نے کہا: ان سے نہ پوچھو۔ کہیں اس کے متعلق ایسی بات نہ کہہ دیں جس کو تم ناپسند يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ عَنْهُ کرو۔ ان میں سے بعض نے کہا: ہم تو ان سے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمْتُ ضرور ہی پوچھیں گے۔ تب ان میں سے ایک شخص أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ وَيَسْتَلُونَكَ عَن اُٹھ کر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابو القاسم ! الروح قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُوا روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالَ الْأَعْمَسُ پر خاموش رہے اور میں نے سمجھ لیا کہ آپ کو وحی هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا ۔ ہو رہی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ اعمش نے کہا: ہماری قراءت میں اسی طرح ہے۔ أطرافه ١٢٥ ، ٤٧٢١، ٧٢٩٧، ٧٤٥٦۔ تشريح : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذا أَردن اله تعالی کا فرمانا مارا کام کسی ایسی چیز کے متعلق جس کے کرنے) کا ہم ارادہ کریں صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: