صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 828
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۲۸ ۹۷ - كتاب التوحيد پاداش سے متعلق یہ واضح تقدیر (یعنی قانونِ الہی) ہے جو قرآنِ مجید میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے اور جہاں بھی یہ قانون بیان ہوا ہے ، وہاں یہ الفاظ ضرور ہیں: لِلهِ مَا في السمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ۔اللہ ہی کی ملکیت ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔جزا و سزا کا صرف وہی مالک ہے۔سورہ فاتحہ میں اسی کامل اختیار پاداش کی وجہ سے رب العالمین کی چوتھی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کا ذکر ہوا ہے۔الدین کے معنی دینویت یعنی جزا و سزا اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے معنی ہیں جزا و سزا کا مالک۔خالق سموات والارض نے پاداش اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔هُوَ اَعْلَمُ بِكُمُ إذْ انْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَ إِذْ اَنْتُمْ إِجِنَّةُ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمُ (النجم : ٣٣) مذکورہ بالا تقدیر الہی کا بیان متعدد آیات میں بالتکرار وارد ہوا ہے۔اس لئے حدیث نمبر ۳۲۰۸ میں وارد شدہ تقدیر کا ذکر اسی واضح بیان کے مفہوم میں لیا جائے گا۔نہ اس مفہوم میں کہ انسان نیکی و بدی میں کلیۂ مجبور و بے اختیار ہے۔اس مفہوم کی رو سے تو نہ بد کار کو سزاملنی چاہیے ، نہ نیکو کار کو جزا۔کیونکہ وہ بدی یا نیکی کرنے پر بلا ارادہ و اختیار ہے۔سورۃ النجم کی آیت میں جن صیغہ ہائے فعل أسَأَوُا عَمِلُوا، أَحْسَنُوا، يَجْتَنِبُونَ سے بد و نیک اعمال انسان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔وہ آزادی ارادہ اور اختیار فعل یا ترک فعل پر دلالت کرتے ہیں۔اس لئے جن امور کے اختیار یا ترک کرنے میں انسان آزاد ہے وہ قابل ثواب یا عقاب ہو گا۔باقی رہا تحمیل خلق انسانی میں ملائکہ کا دخل تو کائنات عالم میں ایک ذرہ بھی نظام مکی کے تصرف سے باہر نہیں۔مذکورہ بالا حدیث میں انسانی پیدائش سے متعلق جن تغیرات کا ذکر الفاظ نطفہ ، علقہ اور مضغہ سے ہوا ہے۔یہی الفاظ قرآن مجید کی آیت وَلَقَد خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُللَةٍ مِن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مكين ثمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عظماً فَكَسَوْنَا العظمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الخلقِينَ) (المؤمنون: ۱۳ تا ۱۵) اس آیت میں چھ تغیرات کا ذکر ہے۔جن سے انسان کی جسمانی تکمیل ہوتی ہے اور اس کے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوتا