صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 827 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 827

صحيح البخاری جلد ۱۲ Arz ۹۷ - كتاب التوحيد پیدا کیا اور جس وقت تم اپنی ماں کے پیٹ میں بحالت جنین (پوشیدہ) تھے۔سو اپنے نفسوں کو پاک نہ قرار دو۔متقیوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔اس آیت میں انسانی پیدائش کے دو زمانوں کا ذکر ہے۔ایک زمین سے پیدا کیے جانے کا زمانہ جس میں نہ صرف زمینی مواد شامل ہیں جو اس کی پیدائش میں بطور اسباب اولیٰ کام کرتے ہیں بلکہ سارا اجتماعی ماحول بھی اس میں شامل ہے جس کے افکار وخیالات اور اخلاق و عادات بھی والدین کی ذہنی و اخلاقی تخلیق میں بطور اہم اسباب و محرکاتِ اولیٰ کے اثر انداز ہوتے ہیں۔بچہ حالت جنین میں جو اس کی پیدائش کا دوسرا زمانہ ہے ان سے غائت درجہ متاثر ہوتا ہے۔اس آیت میں پیدائش انسانی کے انہی دو زمانوں کا ذکر کر کے نصیحت فرمائی ہے کہ ایسے حالات میں پیدا ہونے والے نفوس سے متعلق کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں تک پاکیزہ ہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت سے یاوری نہ فرما دے، انسان کو کامل تزکیہ نصیب نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت کے پہلے حصے میں اپنی صفت واسع المغفرۃ کا ذکر فرمایا ہے کہ انسان چونکہ اپنی پیدائش کے بارے میں غیر مختار اور بے بس ہے، اس لئے ایسے نقائص جو زمینی مواد اور اجتماعی ماحول اور والدین کے افکار و اخلاق سے انسان میں پیدائشی طور پر اس کی فطرت کا جزو بن جاتے ہیں، ان کا تدارک و تلافی خالق اپنی وسیع مغفرت سے فرماتا ہے۔یعنی بوقت محاسبہ انہیں نظر انداز کرتا ہے اور سلسلہ مجازات و مکافات سے متعلق تقدیر الہی یہ ہے: وَلِلَّهِ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا في الأرض اللہ ہی کا اس میں سراسر اختیار ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَ يَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللهم (النجم : ۳۳،۳۲) تا وہ بدکاروں کو ان کی بد عملی کی سزادے اور نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بدکاریوں سے بچتے ہیں۔الا اللهم مگر وہ کمزوریاں نظر انداز کی جاتی ہیں، جو پیدائش کا جزو ہیں اور جن میں انسان کا اختیار نہیں۔اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ (النجم:۳۳) کیونکہ تیرارب وسیع مغفرت والا ہے۔