صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 826
صحیح البخاری جلد ۱۶ Art ۹۷ - كتاب التوحيد قدر ہو گی جس قدر کہ حاکم کے اختیارات ہیں۔دنیا کے حاکم جو محدود حکومت رکھتے ہیں ان کی نافرمانی کی ذلت بھی محدود ہی ہے۔مگر خدا تعالیٰ جو غیر محدود اختیارات رکھتا ہے اس کے حکم کی خلاف ورزی میں ذلت بھی طویل ہو گی۔گو یہ سچ ہے کہ سَبَقَتْ رَحمتِى على غَضَبِی میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے مگر جیسی کہ اس کی طاقتیں وسیع ہیں اسی انداز سے نافرمان کی ذلت بھی ہونی چاہئے اور ہو گی۔ہاں بہت سی سزائیں ایسی ہیں کہ انسان ان کو دیکھتا ہے اور بہت سی سزائیں ہیں کہ ان کو نہیں دیکھ سکتے۔تو غرض یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا کے قانون اور حکم کی اگر پرواہ نہ کریں گے تو کیا نقصان ہے ؟ نہیں نہیں۔خبر دار ہو جاؤ۔“ ( خطباتِ نور ، خطبہ جمعه فرموده ۱۲۰ اکتوبر ۱۸۹۹، صفحه ۳۲) أَنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً: تم میں سے ایک کی پیدائش کے سامان اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن یا چالیس رات تک جمع ہوتے رہتے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: روایت میں پیدائش انسان سے متعلق ملائکہ کے فرض منصبی کا ذکر ہے۔قرآن مجید میں اس پیدائش کی تکمیل کے لئے چھ حالتیں بیان ہوئی ہیں۔جس کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور ملک کے ذریعہ سے نوشتہ تقدیر تکمیل پاتا ہے۔جس میں پیدا ہونے والے انسان کے عمل، رزق، عمر اور اس کی سعادت یا شقاوت کی صورت متعین ہوتی ہے۔یہی معنی ہیں تقدیر کے جو تابع ہوتی ہے، ان مادی و روحانی اسباب کے جو اس کی پیدائش کا موجب ہوتے ہیں اور جن سے اس کی پیدائش کا بیوٹی تیار ہوتا ہے اور یہی مفہوم ہے مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ انَّ أَحَدَ كُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ اقيه کا یعنی تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کے اسباب اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھے کر دیئے جاتے ہیں۔اسی مفہوم اور انہی معنوں میں زیادہ وضاحت کے ساتھ کئی آیات ہیں، جن میں سے ایک آیت یہ ہے: هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهُتِكُمْ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ انقی (النجم : ۳۳) وہ خوب علم رکھتا ہے جس وقت اس نے تمہیں زمین سے