صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 825
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۲۵ ۹۷ - كتاب التوحيد جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ (السجدة: ۲۳) یعنی ہم مجرموں سے انتقام لے کر رہتے ہیں۔“خدا کی یہ صفت انتقام ایسے بار یک در باریک رنگ میں کام کرتی ہے کہ بعض صوفیاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ بسا اوقات خدا کے نیک بندے بھی اس صفت الہی کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں رہتے۔بے شک عفو اور درگزر کے ذریعہ کسی کا بچ جانا اور بات ہے ورنہ اگر کوئی نیک انسان بھی کسی دوسرے شخص کو کوئی نا واجب دکھ پہنچاتا ہے تو خدائے منتقم کی صفت انتقام اپنے مخفی اور بار یک در بار یک قانون کے ذریعہ کسی نہ کسی طریق پر کسی نہ کسی رنگ میں اس کا بدلہ لے کر چھوڑتی ہے۔حق یہ ہے کہ اسلام کا خدا اسلام کے لئے اور مسلمانوں کی جماعت کے لئے بلکہ ہر سچے مسلمان فرد کے لئے عجیب قسم کی غیرت رکھتا ہے اور گو وہ بسا اوقات عفو سے بھی کام لیتا ہے اور پر دہ پوشی بھی فرماتا ہے لیکن بعض اوقات اس پردہ پوشی کے پردہ میں بھی اس کے انتقام کی مخفی تاریں اپنا خاموش کام کرتی چلی جاتی ہیں لیکن اس کی غیرت سب سے زیادہ جوش میں اس وقت آتی ہے جبکہ کوئی ظالم انسان اس کے قائم کئے ہوئے دین اور قائم کی ہوئی جماعت پر ظلم کا ہاتھ اٹھا کر انہیں مٹانے کے درپے ہوتا ہے۔“ ( مضامین بشیر جلد دوم، صفحه ۱۰۲۶، ۱۰۲۷) حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے فرماتے ہیں: قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَذَ إِلَى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ یعنی میرا عذاب تو میرے بنائے ہوئے قانون کے ماتحت صرف اسی کو پہنچتا ہے۔جو اپنے اعمال سے اپنے آپ کو اس کا سزاوار بناتا ہے۔لیکن میری رحمت کی صفات سب پر وسیع ہیں۔“ پھر حدیث میں آتا ہے کہ سبقت رحمتی غَضَبِنی یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔اور ظاہر ہے کہ جن صفات کا غلبہ ہے وہی اپنے افاضہ برکات میں بھی فائق سمجھی جائیں گی۔“ (مضامین بشیر جلد اول، صفحہ ۸۳٬۸۲) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ حکم حاکم کی نافرمانی حسب حیثیت حاکم ہوا کرتی ہے۔یہ ذلت بھی اسی