صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 824
صحیح البخاری جلد ۱۶ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ۔۸۲۴ ۹۷ - كتاب التوحيد ٹھکانے کی طرف اس کو لوٹا دے جس سے وہ نکلا تھا مع اس ثواب یا غنیمت کے جو اس نے حاصل کیا۔أطرافه ،۳۶، ۲۷۸۷، ۲۷۹۷، ۲۹۷۲، ۳۱۲۳، ٧٢٢٦، ٧٢٢٧، ٧٤٦٣۔٧٤٥٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا ۷۴۵۸: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابووائل سے ، ابو وائل نے حضرت ابو موسیٰ سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةٌ وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ آدمی حمیت کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور بہادری کی وجہ وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ سے بھی لڑتا ہے اور دکھلاوے کے لئے بھی لڑتا الله قَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ ہے۔ان میں سے کونسی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے ؟ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ۔أطرافه: ۱۲۳، ۲۸۱۰، ٣١٢٦۔آپ نے فرمایا : جو اس لئے لڑے کہ اللہ کا ہی بول بالا ہو تو یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ريح۔قَوْلُهُ تَعَالَى وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ: اللہ تعلی کا فرمانا: اور ہمارا فیصلہ ہمارے بندوں یعنی رسولوں کے لئے پہلے گزر چکا ہے حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے فرماتے ہیں: ایک حدیث قدسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا نے محمد سے فرمایا ہے کہ ان رحمتی غلبت غضبی یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جن باتوں میں بظاہر خدا کے غصہ کا اظہار ہوتا ہے۔در اصل غور کیا جائے تو ان میں بھی اس کی رحمت کا پہلو ہی غالب ہوا کرتا ہے اسی قسم کی صفات میں خدا کی ایک صفت ذوانتقام اور منتقم ہے یعنی انتقام لینے والا خدا۔اور چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ (ابراهیم : ۴۸) یعنی خدائے اسلام غالب خدا ہے اور مجرم کو بغیر انتقام کے نہیں چھوڑتا۔اور دوسری