صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 823
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۲۳ ۹۷ - كتاب التوحيد رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں رسول اللہ حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِنْ عَلَى صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جا عَسِيبٍ فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ رہا تھا جو مدینہ میں تھا اور آپ کھجور کی ایک لکڑی بَعْضُهُمْ لِبَعْضِ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَ پر سہارا لے رہے تھے۔اتنے میں آپ کچھ یہودی قَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ایک الرُّوحِ فَقَامَ مُتَوَكِّنًا عَلَى الْعَسِيبِ دوسرے سے کہا: ان سے روح کے متعلق پوچھو اور ان میں سے بعض نے کہا: ان سے نہ پوچھو۔وَأَنَا خَلْفَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ آخر انہوں نے آپ سے روح کے متعلق پوچھا۔فَقَالَ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ آپ لکڑی پر سہارا لئے کھڑے ہو گئے اور میں مِنْ اَمرِ رَبِّي وَ مَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ آپ کے پیچھے تھا۔میں سمجھا کہ آپ کو وحی ہو گئی الا قليلا (بنی اسرائیل: ٨٦) فَقَالَ اور آپ نے فرمایا: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ تو بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے تم سے تَسْأَلُوهُ۔کہہ دیا تھا کہ ان سے نہ پوچھو۔أطرافه: ۱۲۵، ٤۷۲۱، ٧٢٩٧ ٧٤٦٢- ٧٤٥٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۴۵۷: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ مجھے بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اعرج ہے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَكَفَّلَ اللهُ لِمَنْ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا صرف اس کی راہ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ بِأَنْ میں جہاد نے ہی اور اس کے کلام کی تصدیق نے يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ ہی اس کو نکالا ہو ایسے شخص کے لئے اللہ ضامن الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ ہو گیا ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے یا اس ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں معمولی علم کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔“