صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 822 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 822

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۲۲ ۹۷- كتاب التوحيد بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ لکھا اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور دوزخیوں بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ کے کام کرتا ہے اور وہ آگ میں داخل ہو جاتا الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ہے اور تم میں سے کوئی دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان فَيَدْخُلُهَا ۔ صرف ایک ہاتھ ہی رہتا ہے اتنے میں تقدیر کا لکھا اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ أطرافه: ۳۲۰۸، ٣٣٣٢، ٦٥٩٤۔ ٧٤٥٥: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۷۴۵۵ : خلاد بن بچی نے ہم سے بیان کیا کہ عمر حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرِّ سَمِعْتُ أَبِي بن ذر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ اپنے باپ سے سنا۔ وہ سعید بن جبیر سے روایت عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ سعید نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا جِبْرِيلُ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا عليه وسلم نے فرمایا: جبریل تمہیں کیا مانع ہے کہ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ ہمیں اُس سے زیادہ ملا کرو جو تم ہمیں ملتے ہو ؟ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا (مريم : ٦٥) اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِامرِ ريك حضرت ابن عباس نے کہا: یہ تھا جواب إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔ قَالَ كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ أطرافه: ٣٢١٨، ٤٧٣١ - محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ ٧٤٥٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۷۴۵۶: بچی نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے ابراہیم سے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبد اللہ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور (فرشتے کہتے ہیں کہ ) ہم نازل نہیں ہوتے مگر تیرے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اُن کے درمیان ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔“