صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 820
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۲۰ ۹۷ - كتاب التوحيد معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لا شریک اور مدیر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے۔یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کاملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔“ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۴، ۱۲۵) ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سات سے لے کر گیارہ رکعتوں تک پڑھتے تھے۔جہاں تیرہ رکعتوں کا ذکر آتا ہے وہاں فجر کی دو سنتیں نماز تہجد میں شمار کی گئی ہیں۔مسروق اور قاسم نے جو روایتیں حضرت عائشہ سے نقل کی ہیں۔وہ آپس میں متفق ہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۱۴۷) مگر عروہ نے جو روایت ان سے نقل کی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں کے علاوہ تیرہ رکعتیں تہجد پڑھتے تھے۔(روایت نمبر ۱۱۷۰) بعض شارحین کا خیال ہے کہ نبی صلی تہجد کی نماز دو ملکی رکعتوں سے شروع کرتے۔مسلم کی روایت میں اس کی صراحت ہے کہ صبح کی دورکعتیں نفل میں شامل کرنے سے تیرہ رکعتیں ہوتی ہیں۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الليل و عدد رکعات) اس طرح ان روایتوں کے ظاہری اختلاف کا حل ہو جاتا ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب التهجد، كَيْفَ كَانَ صَلاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جلد ۲، صفحه ۵۲۶) باب ۲۸ قَوْلُهُ تَعَالَى وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ۱۷۲) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور ہمارا فیصلہ ہمارے بندوں یعنی رسولوں کے لئے پہلے گزر چکا ہے ٧٤٥٣: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۴۵۳: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے