صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 819 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 819

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۱۹ ۹۷۔کتاب التوحيد لأولي الألباب (آل عمران: ۱۹۱) ثُمَّ قَامَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ پھر آپ کھڑے ہوئے فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى اور آپ نے وضو کیا اور مسواک کی۔پھر آپ نے عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ گیارہ رکعتیں پڑھیں۔اس کے بعد حضرت بلال فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی نے نماز کی اذان دی تو آپ نے دور کعتیں پڑھیں۔پھر باہر گئے اور آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔لِلنَّاسِ الصُّبْحَ۔أطرافه ۱۱۷ ،۱۳۸، ۱۸۳ ۱۹۷ ، ۶۹۸، ۶۹۹ ،۷۲۶، ،۷۲۸، ۸۵۹، ۱۱۹۸، ٤٥٦۹، -٦٢١٥، ٦٣١٦ ۱۹۱۹ ۷۲ ۷۱ ۷۰ ح : مَا جَاءَ فِي تَخْلِيقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخَلَائِقِ : آسمان اور زمین وغیرہ مخلوقات کے پیدا کئے جانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "سورۃ البقرۃ میں فرماتا ہے: اِنَّ فِي خَلْقِ السّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَا انْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَ تَصْرِيفِ الرّيح وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَايَتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ) (البقرة: ۱۶۵) یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیئے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا۔یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس کے مدبر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنی ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔“