صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 818
صحيح البخاری جلد ۱۶ MIA ۹۷ - كتاب التوحيد باب ۲۷ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخَلَائِقِ آسمان اور زمین وغیرہ مخلوقات کے پیدا کئے جانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں وَهُوَ فِعْلُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَمْرُهُ اور یہ پیدائش رب تبارک و تعالیٰ کا فعل اور اس کا فَالرَّبُّ بِصِفَاتِهِ وَفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ وَهُوَ کم ہے۔اس لئے رب اپنی صفات اور اپنے فعل الْخَالِقُ الْمُكَوّنُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ وَمَا اور امر کے ساتھ ہے اور وہی پیدا کرنے والاء كَانَ بِفِعْلِهِ وَأَمْرِهِ وَتَخْلِيقِهِ وَتَكْوِينِهِ موجود کرنے والا ہے، مخلوق نہیں، اور جو اس کے فَهُوَ مَفْعُولٌ مَخْلُوقٌ مُكَوَّنٌ۔فعل اور اس کے امر اور اس کے پیدا کرنے اور اس کے موجود کرنے سے ہو تو وہ مفعول مخلوق سکون ہے۔٧٤٥٢: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۷۴۵۲: سعيد بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔شریک بن عبد اللہ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا۔شریک نے کریب كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ بِثْ فِي سے، کریب نے حضرت ابن عباس سے روایت بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى الله کی۔انہوں نے کہا: ایک رات میں حضرت میمونہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ کے گھر میں ٹھہرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے ہاں تھے تا کہ میں دیکھوں کہ رسول اللہ صلی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ اللہ علیہ وسلم رات کو کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گھر والوں وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا کے ساتھ کچھ دیر باتیں کیں۔پھر اس کے بعد سو كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَخِيْر أَوْ بَعْضُهُ گئے۔جب رات کی آخری تہائی ہوئی یا کچھ حصہ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ إِنَّ رہ گیا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھنے فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لگے اور آپ نے یہ آیت پڑھی: إِنَّ فِي خَلْقِ