صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 817 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 817

صحيح البخاری جلد ۱۲ MIZ ۹۷ - كتاب التوحيد ایک انگلی پر آسمان ہے، ایک انگلی پر زمین ہے، ایک انگلی پر دوسری بعض مخلوقات ہیں۔اس طرح چند انگلیاں اس نے گنوائیں اور کہا کہ اس پر یہ چیز ہے۔اس پر وہ چیز ہے اور اس پر وہ چیز ہے، آنحضرت ملا لی لی لی نامی اس پر اتنا مسکرائے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ آپ کے دانت نظر آنے شروع ہو گئے اور آپ نے یہ آیت پڑھی ما قدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ - ان لوگوں نے اللہ کی معرفت کو پہچانا نہیں۔( صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن باب قوله وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِه، حدیث نمبر :۴۸۱۱) یہ عجیب بات ہے کہ راوی جو بیان کرتے ہیں اس روایت کو اور بعض احادیث کے علماء بالکل برعکس نتیجہ نکالتے ہیں اس سے۔وہ کہتے ہیں آنحضرت صلی ا یکم مسکرائے اس وجہ سے کہ آپ نے تائید فرمائی کہ ہاں ہاں تو نے بہت ہی معرفت کا نکتہ بتایا ہے اور اس کی تائید میں یہ آیت پڑھی۔حالانکہ یہ آیت خود بتارہی ہے کہ آنحضرت لال نام اس بیچارے کی نادانی اور لاعلمی پر مسکرائے ان معنوں میں کہ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ خدا ہے کیا چیز ؟ وہ مجھ سے سیکھو، مجھے کیا بتانے آئے ہو۔جس کی ذات میں سرتاپا خدا نہاں ہو چکا ہے اس کو یہ بتانے آئے ہو کہ خدا کیا ہے اور ایسی اس کی صفات دنیا میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔تو تحقیر کا مسکرانہ نہیں تھا وہ، نہ تائید کا تھا بلکہ معرفت الہی کے نتیجہ میں ایک بے اختیار مسکراہٹ تھی۔جس پر کوئی انسان اپنے اختیار سے قابو ہی نہیں پاسکتا اور پھر یہ آیت پڑھ دی مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔افسوس! ان لوگوں کو خدا کی قدر نہیں ہے خدا ہے کیا چیز ؟ ان ظاہری بیانوں میں الجھے ہوئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی تعظیم ہے۔خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۳/ جنوری ۱۹۸۶ء، جلد ۵ صفحه ۱۲ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آن تزولا بعض دم دار ستارے ایسے ہیں کہ ان کی دُم کی فکر سے زمین ٹکڑے ہو جاوے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۳، صفحه ۴۵۴)