صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 816
صحيح البخاری جلد ۱۲ وو AIT ۹۷ - كتاب التوحيد سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ اپنے حلیم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان اللہ يُمسك السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَاةَ وَلَبِنْ زَالَنَا مِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (الفاطر : ۴۲) که یقینا اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ وہ ٹل سکیں اور اگر وہ دونوں (ایک دفعہ) ٹل گئے تو اس کے بعد کوئی نہیں جو پھر انہیں تھام سکے۔یقیناً وہ بہت بُردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔اس آیت کا مقصد ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لانے والے نہیں وہ اپنی مذموم حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے یقینا قابل ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ جو رحم کرنے والا ہے، بردبار ہے، بخشنے والا ہے اس نے تمہیں بچایا ہوا ہے اور ڈھیل دیتا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی حالتوں کو بدلو۔اس رویے کو بد لوجو آنحضرت علی ایم کے خلاف تم نے اپنایا ہوا ہے۔اپنی اصلاح کر لو ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا حساب لینا شروع کر دے اور فوری سزا شروع کر دے تو چند لمحوں میں تمہیں ختم کر سکتا ہے۔اور زمین و آسمان کو اس نے روک رکھا ہے۔اگر وہ ٹل جائیں تو پھر قیامت کا نمونہ ہو گا۔پس وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے جو فوری بدلے نہیں لیتا اور بخشنے والا بھی ہے اس کی طرف جھکو اور اپنی حدود کے اندر رہو۔“ 66 خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۴ / مارچ ۲۰۰۸ء، جلد ۶ صفحه ۱۱۳) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قدر کے ایک معنی پہچاننے کے بھی ہیں۔مَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرِهِ (الانعام : ۹۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کی قدر نہیں کی، خدا کی قدر کن معنوں میں ؟ اس کی عظمت کو نہیں پہچانا۔ایک دفعہ ایک یہودی عالم آنحضرت مئی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے علم کا زعم لے کر اس نے ایک ایسی چیز اپنی طرف سے آنحضرت علی ایم کے سامنے بیان کی جسے وہ سمجھتا تھا کہ گویا نعوذ باللہ اس کے علم کا رعب پڑ جائے گا اور بات وہ بیان کی جو آنحضرت علی ایم کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی تھی۔اس نے یہ بیان کیا کہ ہم نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی