صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 815
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۱۵ ۹۷ - كتاب التوحيد ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔“ (براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۴۵۰ تا ۴۵۲ بقیه حاشیہ نمبر ۱۱) باب ٢٦ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّبُواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا (فاطر:٤٢) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روک رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں ٧٤٥١: حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ۷۴۵۱ موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے ابراہیم عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ جَاءَ سے ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت ـرٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد اللہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: یہودیوں وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يَضَعُ کا ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس السَّمَاءَ عَلَى إِصْبَعِ وَالْأَرْضَ عَلَى آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ آسمان کو ایک انگلی پر اور إِصْبَعِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعِ وَالشَّجَرَر زمین کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور ندیوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام وَالْأَنْهَارَ عَلَى إِصْبَعِ وَسَائِرَ الْخَلْقِ مخلوق کو ایک انکی پر رکھ لے گا اور پھر اپنے ہاتھ عَلَى إِصْبَعِ ثُمَّ يَقُولُ بِيَدِهِ أَنَا الْمَلِكُ سے فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں۔رسول اللہ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرِةِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا: یعنی ان لوگوں نے اللہ کی صفات کا اندازہ اس (الانعام: ٩٢)۔طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے۔أطرافه: ٤٨١١، ٧٤١٤، ٧٤١٥، ٧٥١۔ریخ: إِنَّ اللهَ يُمْسِكُ الشّبُوتِ وَالْأَرْضَ اَنْ تَزُولا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روک رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے مل جائیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: