صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۰ ۸۹ - كتاب الإكراه الا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطمین بالایمان کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو مجبور ارتداد کرے اس پر اتنا عذاب نہیں۔شاید اشارہ جبر ہی کی طرف ہو اور ممکن ہے کہ ظلم کی وجہ سے وہ دلیری سے اسلام کا اظہار نہ کر سکے ہوں۔گو بعض روایات میں عمار کے متعلق اس کو چسپاں کیا جاتا ہے مگر مضمون کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے جبر پر یہ واقعہ زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔مسیحیوں نے اس آیت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بزدلی کی تعلیم دیتا ہے اور ظلم کے موقعہ پر ارتداد کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ اعتراض بھی ان کے دوسرے اعتراضوں کی طرح غلط ہے کیونکہ اس جگہ سے یہ ہرگز نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ اس فعل کو معاف کر دے گا۔اس جگہ تو صرف یہ کہا ہے کہ الا مَنْ اكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْبِن والے کے متعلق اس آیت میں حکم نہیں بیان کیا گیا اور سزا سے مستعفی نہیں بتایا گیا بلکہ اس گروہ کو علیحدہ قرار دے کر یہ کہا ہے کہ اس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة النحل، آیت مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ ايْمَانِةِ ، جلد ۴ صفحه ۲۵۴) إِنَّ الَّذِينَ تَوَفهُمُ الْمَلبِكَةُ ظَالِمِي الْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ: وہ لوگ جن کو ملائکہ ایسی حالت میں وفات دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ تم کس دھن میں رہے ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے ہیں: تم سب نے تجربہ کیا ہو گا کہ بعض اوقات انسان کا جی چاہتا ہے کہ آج عبادت ہی کریں۔بعض آدمیوں کو دیکھ کر بھی عبادت کو جی چاہتا ہے۔اسی طرح بعض موقعوں پر خدا سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ملنے سے خدا سے نفرت پیدا ہو کر دنیا کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور بعض شخصوں کو دیکھ کر دنیا سے دل سرد ہو جاتا ہے اور آخرت کا خیال آجاتا ہے۔یہ ایک دُنیا کے عجائبات میں سے ہے۔یہ دونوں حالتیں قریباً ہر انسان پر وارد ہوتی ہیں۔بعض کھانے ، چار پائی اور مکان میں غفلت پیدا ہوتی ہے۔نبی کریم کو حکم ہے کہ ایسی جگہ کو بدل دو۔چارپائیوں کے بستروں کے بدلنے سے بھی حالت بدل جاتی ہے۔یہاں اسی مسئلہ کو خدا نے