صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 61 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 61

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۱ ۸۹ - كتاب الإكراه بیان کیا۔جس ملک میں رہنے سے دین کو بھولے اُسے کیوں نہ چھوڑ دے۔فرشتے اُن پر سختی کریں گے اور کہیں گے کہ تم ایسے مقاموں میں رہے کیوں ؟ کیا خدا کی زمین فراخ نہ تھی ؟ تم اس جگہ سے یہ سبق سیکھو۔جہاں غفلت کی صحبت ہو اُس میں مت بیٹھو۔ایک بزرگ نے مجھے کہا کہ تم کو کئی دن سے نہیں دیکھا۔میں نے کہاہاں ستی ہو گئی۔فرمایا: تم نے قصاب کی دوکان نہیں دیکھی؟ آپ کا مطلب یہ تھا کہ دیکھو قصاب جب دو چھریاں آپس میں رگڑتا ہے تو تیز ہو جاتی ہیں۔اسی طرح صحبت صادقین کا فائدہ ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۵۳) وَقَالَ الْحَسَنُ التَّقِيَّةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: اور حسن (بصری) نے کہا: تقیہ قیامت تک رہے گا۔حسن بصری کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اول میں جس طرح بعض مسلمانوں کو اسلام سے انکار کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا جیسے حضرت بلال ، حضرت عمار، حضرت خباب و دیگر متعدد صحابہ اس آزمائش سے گزرے۔یہ سلسلہ وہاں شروع ہو کر وہیں ختم نہیں ہو گیا بلکہ قیامت تک ایسے لوگ آتے رہیں گے جنہیں حق سے انکار پر مجبور کیا جائے گا اور اُن میں سے بعض اس جبر کے سامنے بے بس ہو کر اپنے ایمان کو چھپانے پر مجبور ہو جائیں گے۔امام بخاری نے آیت کریمہ کے الفاظ إلا أن تَتَّقُوا مِنْهُم تُقةٌ ( مگر یہ کہ تم ان سے پوری طرح بچو) سے یہ استدلال کیا ہے کہ کمزور لوگوں کا ایک طبقہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنے بچاؤ کی ہر ممکنہ کوشش کرے گا اور چونکہ ہر شخص کی برداشت اور صبر کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے۔وہ جن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے الا مَنْ أُكْرِةَ وَ قلبه مطمین بالایمان ( مگر وہ جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو) کے تابع بعض اوقات ان سے ایسے اظہار ہو جاتے ہیں جو تقیہ یعنی جان بچانے کی وہ آخری حد ہے جس میں ایک انسان بے بس ہو جاتا ہے اور اس کی زبان سے کچھ ایسا اظہار ہو جاتا ہے جو ایمان کی اعلیٰ حالت کے منافی ہے۔یہ جائز تو ہے مگر اسلام اسے نہ محل مدح میں شمار کرتا ہے نہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اسلام کے نزدیک یہ ایمان کی وہ سطح ہے جسے استغفار، تو بہ اور مقبل الی اللہ کے پانی سے سیراب کئے بغیر کامل نجات نہیں ملتی۔کامل لوگ ان مواقع پر ہجرت کو ترجیح دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آیت الآمَنْ اكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَن بِالایمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں: مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو سخت دردناک اور فوق الطاقت زخموں سے مجروح کرے اور وہ اس عذاب شدید میں کوئی ایسے کلمات کہہ دے کہ اس کافر کی نظر میں کفر کے کلمات ہوں مگر وہ خود کفر کے کلمات کی نیت نہ کرے بلکہ دل اس کا ایمان سے لبالب ہو اور صرف یہ نیت ہو کہ وہ اس ناقابل