صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 59 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 59

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۵۹ ۸۹ - كتاب الإكراه (۱) حضرت عیاش بن ابی ربیعہ : ان کا نام عیاش جبکہ کنیت ابو عبد الرحمن ہے۔دعوت اسلام کے ابتدائی ایام میں اسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ہجرت ثانیہ میں اپنی اہلیہ اسماء کے ساتھ ہجرت حبشہ کی۔جب حبشہ سے مکہ واپس آئے تو اس کے بعد حضرت عمرؓ کے ساتھ ہجرت مدینہ کا شرف حاصل ہوا۔ابھی قباہی پہنچے تھے کہ ان کے بھائی ان کا پیچھا کرتے ہوئے آپہنچے اور کہا کہ تمہاری والدہ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمہیں دیکھ نہ لیں گی، سایہ میں نہ بیٹھیں گی۔والدہ کی محبت میں انہیں ملنے واپس مکہ آگئے۔ابو جہل اور حارث بن ہشام جو ان کے اخیافی بھائی تھے ، انہوں نے ان کو مکہ میں قید کر لیا اور اذیتیں دینی شروع کر دیں۔ایک روایت کے مطابق شام میں آپ کی وفات ہوئی جبکہ طبری کے مطابق شام سے واپس ہو کر مکہ میں وفات ہوئی۔(اسد الغابہ، عیاش بن ابی ربیعة، جزء ۴ صفحه ۳۰۸) (الطبقات الكبرى لابن سعد، المطبقة الثانية من المهاجرين عياش بن أبي ربيعة ، جزء ۴ صفحه ۹۶ (۲) حضرت سلمہ بن ہشام : ان کا نام سلمہ ہے۔یہ دشمن اسلام ابو جہل کے بھائی تھے۔اسلام کے ابتدائی ایام میں قبول اسلام کا شرف پایا۔ہجرت حبشہ میں شامل ہوئے لیکن جلد ہی اہل مکہ کے قبول اسلام کی غلط خبر سن کر بعض مہاجرین کے ساتھ واپس آگئے۔واپس آنے کے بعد ابو جہل نے ان کو قید کر لیا اور طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں اور حضرت سلمہ قید و بند کی ان صعوبتوں میں غزوہ بدر کے بعد تک گرفتار رہے۔(اسد الغابة، سلمة بن هشام، جزء ۲ صفحه ۵۳۱) (الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثانية من المهاجرين سلمة بن هشام، جزء۴ صفحه ۹۷،۹۶) (۳) حضرت ولید بن ولید: ان کا نام ولید ہے۔مشہور صحابی حضرت خالد بن ولیڈ اور آپ ایک ہی ماں کے بطن سے تھے۔بدر میں مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ لڑنے نکلے اور شکست کھا کر حضرت عبد اللہ بن جحش کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔رہائی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے۔اسلام لانے کے بعد مکہ لوٹ گئے۔وہاں آپ کو قید کر دیا گیا۔ایک عرصہ تک قید کی تکالیف برداشت کیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ غزوہ بدر سے قبل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام کی رہائی کی دعا کیا کرتے تھے اور بدر کے بعد آپ ان کے ساتھ ساتھ ولید بن ولید کا بھی نام لے کر دعا کرنے لگے۔اور (غزوہ بدر کے بعد ) تین سال تک آپ ان تینوں کی رہائی کی دعا کرتے رہے۔بالآخر ایک دن ولید موقع پا کر قید سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ نے ان سے عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام کے متعلق پوچھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں بیٹریوں میں بندھے ہوئے قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس مکہ جا کر قریش سے نظر بچاتے ہوئے انہیں بھی چھڑا کر لے آؤ۔چنانچہ ولید آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی قید سے نکال کر لانے میں کامیاب ہوئے۔عمرۃ القضاء میں آنحضرت علیم کے ساتھ تھے لیکن عمرۃ القضاء کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہے اور ۸ھ کے اندر ہی آپ کی وفات ہو گئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الطبقة الثانية من المهاجرين، الوليد بن المغيرة، جزء ۴ صفحه (۹۸) (اسد الغابة، الوليد بن الولید، جزء ۵ صفحه ۴۲۳)