صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 814 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 814

صحیح البخاری جلد ۱۶ AIM ۹۷ - كتاب التوحيد اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقع ہو شرط ہے اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے اور اسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے کیونکہ یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔بلاشبہ جو لوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط به شرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے مؤخر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اول صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی۔صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات پر قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔جیسا ایک جگہ فرمایا ہے: وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب: ۴۴) یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحْمَانًا بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے۔اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف:۵۷) یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ (البقرة:۲۱۹) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی، وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خد اغفور اور رحیم ہے یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔کوئی