صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 813
صحیح البخاری جلد ١٦ وَتَقُولُ قَدْ قَدْ قَطْ۔ ۸۱۳ ۹۷- كتاب التوحيد آگ کے لئے جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ اس میں ڈالے جائیں گے اور وہ تین بار کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ أطرافه: ٤٨٤٩، ٤٨٥٠ - اس میں اپنا قدم رکھ دے گا جس سے وہ بھر جائے گی اور وہ ادھر ادھر ہٹ کر سمٹ جائے گی اور کہے گی : بس بس بس۔ ٧٤٥٠ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۷۴۵۰: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے ، قتادہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے مِّنَ النَّارِ بِذُنُوبِ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً ثُمَّ فرمایا: کچھ لوگوں کو ان گناہوں کی سزا میں کہ جو انہوں نے کئے تھے آگ کا جھلسا لگے گا۔ پھر اللہ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْجَهَنَّمِيُّونَ۔ وَقَالَ هَمَّامَ اپنی رحمت کے طفیل ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ انہیں جہنمی کہا کریں گے ۔ اور ہمام نے کہا: ہم حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ سے قتادہ نے بیان کیا کہ حضرت انس نے نبی صلی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه: ٦٥٥٩ - اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں یہی بتایا۔ تشريح : إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ الله کی ر م کی رحمت یقینا محسنوں کے قریب ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے ہیں: ان رحمۃ اللہ قبولیت کیلئے فضل کی ضرورت ہے۔ وہ محسنوں کے قریب ہے پس تم محسن بن جاؤ۔ “ ( حقائق الفرقان، جلد ۲، صفحہ ۲۱۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ”فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیہ قلب اور دعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ