صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 812
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۱۲ ۹۷- كتاب التوحيد إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرَّحَمَاءَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا: آپ روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ اپنے بندوں میں سے انہیں پر رحم کرتا ہے جو رحم کرتے ہیں۔ أطرافه: ١٢٨٤، ٥٦٥٥ ، ٦٦٠٢، ٦٦٥٥، ٧٣٧٧۔ ٧٤٤٩ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ ۷۴۴۹ : عبید اللہ بن سعد بن ابراہیم نے ہم سے بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ یعقوب نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ أَبِي عَنْ صَالِحٍ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ ان کے باپ نے صالح بن الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ کیسان سے، صالح نے اعرج سے، اعرج نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اخْتَصَمَتِ حضرت ابوہریرہ سے۔ حضرت ابوہریرہ نے نبی الْجَنَّةُ وَالنَّارُ إِلَى رَبِّهِمَا فَقَالَتِ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: الْجَنَّةُ يَا رَبِّ مَا لَهَا لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا جنت اور آگ نے اپنے رب کے سامنے جھگڑا پیش کیا۔ جنت کہنے لگی: اے میرے رب ! مجھے ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَقَالَتِ النَّارُ جو يَعْنِي أُوثَرْتُ بِالْمُتَكَبِرِينَ فَقَالَ اللہ کیا ہے کہ مجھ میں صرف وہی داخل ہوتے ہیں ؟ لوگوں میں سے کمزور اور ذلیل تھے۔ آگ کہنے تَعَالَى لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي وَقَالَ لگی: مجھے تو متکبروں کے لئے ہی مخصوص کر دیا لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت أَشَاءُ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِّنْكُمَا مِلْؤُهَا ہے اور آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے۔ جس قَالَ فَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِنْ کو چاہتا ہوں تیرے ذریعہ سے عذاب دیتا ہوں خَلْقِهِ أَحَدًا وَإِنَّهُ يُنْشِئُ لِلنَّارِ مَنْ اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو اتنے ملیں گے يَّشَاءُ فَيُلْقَوْنَ فِيهَا فَتَقُولُ هَلْ مِنْ جن سے وہ بھر جائے۔ آپؐ نے فرمایا: جنت تو مَّزِيدٍ ثَلَاثًا حَتَّى يَضَعَ فِيهَا قَدَمَهُ اس طرح بھرے گی کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے فَتَمْتَلِيُّ وَيُرَدُّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا اور بات یہ ہے کہ وہ