صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 811 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 811

صحیح البخاری جلد ۱۶ All باب ٢٥ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ۹۷ - كتاب التوحيد إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: ٥٧) اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں: اللہ کی رحمت یقیناً محسنوں کے قریب ہے ٧٤٤٨: حَدَّثَنَا مُوسى بْنُ :۷۴۴۸ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا کہ عبد الواحد نے ہمیں بتایا۔عاصم نے ہم سے عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَسَامَةَ بیان کیا۔عاصم نے ابو عثمان سے، ابو عثمان نے قَالَ كَانَ ابْنُ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ اُسامہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی یکم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ کی بیٹیوں میں سے کسی بیٹی کا فرزند جان بلب تھا تو إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ ان کے پاس وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلِّ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى آئیں۔تو آپ نے کہلا بھیجا: اللہ ہی کا ہے جو اُس فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ نے لیا اور اسی کا ہے جو اُس نے دیا اور ہر ایک اپنی مقرر میعاد کو پہنچنے والا ہے اس لئے وہ صبر کرے اور رضاء الہی چاہیے۔تو آپ کی بیٹی نے آپ کو بلا فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ ย بھیجا اور آپ کو قسم دی۔اس پر رسول اللہ صلی ا ولم وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ اُٹھے اور میں اور حضرت معاذ بن جبل اور حضرت وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا ابی بن کعب اور حضرت عبادہ بن صامت بھی نَاوَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ کے ساتھ اٹھے۔جب ہم اندر گئے تو گھر وَسَلَّمَ الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي والوں نے رسول اللہ صلی للی کم کو وہ بچہ دیا اور اس صَدْرِهِ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ فَبَكَى بچے کا سانس اس کے سینے میں ٹوٹ رہا تھا۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت اسامہ کہتے تھے: میں نے ایسا سمجھا فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَتَبْكِي فَقَالَ کہ جیسے پرانی مشک ہوتی ہے۔یہ حال دیکھ کر