صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 811
صحیح البخاری جلد ۱۶ All ۹۷- كتاب التوحيد باب ٢٥ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: ٥٧) اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں: اللہ کی رحمت یقیناً محسنوں کے قریب ہے ٧٤٤٨ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۷۴۴۸ : موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا مة الله إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا کہ عبد الواحد نے ہمیں بتایا۔ عاصم نے ہم سے عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَسَامَةَ بیان کیا۔ عاصم نے ابو عثمان سے، ابو عثمان نے قَالَ كَانَ ابْنُ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ اسامہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا نبی صلی علی ام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ کی بیٹیوں میں سے کسی بیٹی کا فرزند جان بلب تھا تو إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ ان کے پاس وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى آئیں ۔ تو آپ نے کہلا بھیجا اللہ ہی کا ہے جو اُس فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا اور ہر ایک اپنی مقرر میعاد کو پہنچنے والا ہے اس لئے وہ صبر کرے فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ اور رضاء الہی چاہے۔ تو آپ کی بیٹی نے آپ کو بلا بھیجا اور آپ کو قسم دی۔ اس پر رسول اللہ صلی علی یم وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ اُٹھے اور میں اور حضرت معاذ بن جبل اور حضرت وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا ابی بن کعب اور حضرت عبادہ بن صامت بھی نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپؐ کے ساتھ اٹھے۔ جب ہم اندر گئے تو گھر وَسَلَّمَ الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي والوں نے رسول الله صلى الالم کو اللہ صلی اللی ایم کو وہ بچہ دیا اور اس صَدْرِهِ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ فَبَكَى بچے کا سانس اس کے سینے میں ٹوٹ رہا تھا۔ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سامہؓ کہتے تھے: میں نے ایسا سمجھا فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ أَتَبْكِي فَقَالَ کہ جیسے پرانی مشک ہوتی ہے۔ یہ حال دیکھ کر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ