صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 810
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۱۰ ۹۷- كتاب التوحيد کا دل محبت و یقین سے معمور تھا۔ مذکورہ بالا دعا آپ کی مقدس زندگی کی مخفی کیفیات قلبی کا ایک روشن نمونہ ہے۔ کیونکہ انسان کی دعائیں دراصل اس کے خیالات و جذبات کی حقیقی ترجمان ہوتی ہیں۔“ (صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب العَهَجُدِ بِاللَّيْلِ۔۔۔، جلد ۲، صفحه ۵۱۲) لقى اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ : حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: شدت ناراضگی میں انسان نہ ہم کلام ہوتا ہے اور نہ دیکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ کی تشریح محولہ بالا آیت سے کی گئی ہے ۔ لا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ (آل عمران: ۷۸) سے یہ مراد بھی ہے کہ اس دنیا میں بھی انجام کار جھوٹ سے حاصل کیا ہو امال نفع بخش نہیں ہو گا۔ ثَمَنًا قَلِيلًا (تھوڑے مال) سے مراد نا پائدار اور انجام کار نقصان والا دنیاوی نفع ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۵ میں ثمنًا قَلِيلًا کی تشریح بالفاظ أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (البقرة: (۱۷۵) سے کی گئی ہے۔ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہیں ان کا کھانا گویا آگ نگلنا ہے۔ وہ نہ دنیا میں راحت کا موجب ہو گا نہ آخرت میں۔ یہ وہ تقدیر الہی ہے جو شریعت کی حدود توڑنے پر نازل ہوئی ہے۔“ (صحیح بخاری، جلد ۴ صفحہ ۷۳۹،۷۳۸) ليُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ : سنواجو موجود ہے وہ اس کو پہنچادے جو موجود نہیں۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: اگر قوم کے افراد علم کے متعلق اس قدر اہتمام کریں کہ ایک دوسرے کو باخبر اور واقف رکھنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں ساری قوم عالم ہو سکتی ہے۔ بہت سی علم کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزانہ اعمال و معاملات میں نہایت قیمتی ہوتی ہیں۔ پڑھنے پڑھانے کی نسبت سن سنا کر زیادہ آسانی سے ذہن نشین ہو جاتی ہیں اور بہت کارآمد ہو سکتی ہیں۔“ (صحيح البخاري، كتاب العِلْمِ ، بَاب لِيُبَلِّغ العِلْمَ الشَّاهِدُ الغَائِب۔۔۔ جلدا، صفحہ ۱۸۱)