صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 809
صحیح البخاری جلد ۱۶ A+9 ۹۷ - كتاب التوحيد بڑھاتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مِثْقَالَ نَدّةٍ نَيّة عربی زبان میں لال چیونٹی کو کہتے ہیں اور مثقال اسکے سر کو۔“ ( حقائق الفرقان جلد دوم صفحه ۲۳) باب ہذا کی روایت نمبر ۷۴۴۱ کے الفاظ ہیں اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ: اس وقت تک تم صبر کئے رہنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے ملو۔میں حوض پر ہوں گا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں۔حق جس طرح ملکیت کی بناء پر قائم ہوتا ہے ، اسی طرح اخلاقی اقدار کی بناء پر اپنا حق محفوظ رکھنے کے باوجو د دوسروں سے حسن سلوک کرنا لازمی ہے۔حق ملکیت اس اخلاقی فرض کو اور بھی زیادہ واجب کر دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی آب حیات والے حوض کوثر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اخلاقی اور روحانی کم مائیگی کی وجہ سے نااہل لوگ آپ کے حوض سے ہانکے جائیں گے اور وہ حوض کوثر کے پاکیزہ پانی سے محروم رہیں گے۔“ (صحيح البخاري، كتاب المساقاة، بَاب مَنْ رَأَى أَن صَاحِبَ الحَوضِ وَ القِرْبَةِ ، جلد ۴، صفحه ۳۶۳) روایت نمبر ۷۴۴۲ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبصورت دعا کا ذکر ہے جو آپ تہجد کے وقت کیا کرتے تھے۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِن اللَّيْلِ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب رات کو تہجد کے لئے اُٹھتے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: رات کا وقت دعا کے لئے نہایت مناسب ہے۔اس وقت انسان یکسو ہو کر جنابِ الہی کے حضور اپنی مناجات میں دل کی گہرائیوں سے راز و نیاز کی باتیں کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔رات کے سنسان عالم میں جبکہ سوائے اللہ تعالٰی کی ذات کے اور کوئی دیکھنے ، سننے والا نہیں؛ آپ کا مذکورہ بالا دعا کرنا بتاتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال پر، اس کی قدرت کاملہ پر ، اس کے وعدوں کے سچا ہونے پر، اس کی جزا و سزا پر، اس کے تمام انبیاء کی صداقت پر اور اپنی رسالت پر کامل یقین تھا۔انسان لوگوں کے سامنے اپنے متعلق تکلف سے بہت کچھ مظاہرہ کر سکتا ہے۔مگر اس تنہائی کی گھڑی میں جب ساری دنیا سوئی پڑی ہو ، خیالات کے جذبات میں تبدیل ہو کر بے ساختہ زبان سے جاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ