صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 808 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 808

صحیح البخاری جلد ۱۶ A+A -92 ۹۷ - كتاب التوحيد حدیث شریف میں ہے۔اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبِّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ - ليس دُونَهُ حِجَابٌ وَيَرَوْنَهُ سُبْحَانَهُ فِي فَوْقِهِم نَظَرَ الْعَيَانِ كَمَا يُرَى الْقَمَرَانِ هَذَا تَوَاتَر عَنْ رَسُولِ اللهِ لَمْ يُنكره إِلَّا فَاسِدُ الْإِيمَانِ حقائق الفرقان، جلد ۴، صفحه ۲۷۳) أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ : اس نے ان کو جنت میں بغیر کسی عمل کے کہ جو اس نے کیا ہو یا بھلائی کے جو انہوں نے پیش کی ہو ان کو جنت میں داخل کر دیا ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: دوزخ سے نکلنے والے کچھ نہ کچھ ایمان رکھتے ہوں گے۔یعنی مومن جس کا ایمان ناقص ہے دوزخ میں جائے گا اور یہ ایمانی نقص اعمال صالحہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ایمان کو قرآن مجید نے درخت قرار دیا ہے اور عمل کو پانی۔کچھ مومن جنت میں اور کچھ مومن جو دوزخ کے مستحق ہوں گے ، دوزخ میں جائیں گے۔یہ تفاوت جو اُن میں ہوا محض اعمال صالحہ کی وجہ سے ہوا۔اس وقت بھی جبکہ وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے ، ایمان کی نشوو نما کے لئے پھر اُن کو ایک قسم کے آپ حیات کی ضرورت ہو گی جو ایمان کو اسی طرح سینچے گا جس طرح اس دنیا میں سینچتا ہے۔اسلامی اعتقاد کی روح سے دوزخ کی سزا محض ایک استعداد و قابلیت پیدا کرنے کے لئے ہوگی اور دوزخ سے نجات پانے پر انسان کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا سامان ملے گا اور وہ اس قانونِ ربوبیت کے ماتحت نئی زندگی حاصل کریں گے جو اس دنیا میں جاری ہے۔یہ مراد ہے دانے کی مثال دینے سے اور اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایمان بغیر اعمال کے اس دانے کی مانند ہے، جو بغیر پانی کے نشو و نما نہیں پاتا اور ضمناً ان فرقوں کا بھی رڈ کیا گیا ہے۔جن کی طرف علامہ عینی نے اپنی شرح میں اشارہ کیا ہے۔یعنی مرجیہ وغیرہ کا جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ گنہگار ہمیشہ آگ میں رہیں گے خالی ایمان قطعا کوئی نفع نہیں دے گا۔“ (صحیح البخاري، كتاب الإيمان، باب تَفاضُلُ أَهْلِ الإيمان في الأعمال جلد ا، صفحہ ۶۲) إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ : یقینا اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی کی بات ہو تو وہ اسے