صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 807 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 807

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۰۷ ۹۷ - كتاب التوحيد کیونکہ اسلام صرف لقاء الہی کا دعوی ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اس کا ثبوت بھی پیش کرتا ہے۔پس وہ اس سے بچنے کے لیے لقاء الہی کے سرے سے ہی منکر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے اس مسئلہ کے مقابل میں اپنی طرف سے لقاء الہی کا جھوٹا دعویٰ بھی پیش کرنے کی جرات نہیں کر سکتے بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ لقائے الہی نہ تمہارے ہاں ہے نہ ہمارے ہاں ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ لقائے الہی تمہارے مذہب میں نہیں اور ہمارے مذہب میں ہے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا دعویٰ کیا تو وہ اُسے ثابت نہیں کر سکیں گے۔یہ لقائے الہی کس طرح حاصل ہوتا ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اصولی رنگ میں قرآن کریم میں یہ ہدایت دی ہے کہ يَايُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَيُلْقِيهِ ( انشقاق ع۱) یعنی اے انسان تیرے لئے اپنے رب سے ملنے کا راستہ تو ہر وقت کھلا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تیری طرف سے گذح ہونا چاہیئے۔اور کرح اُس کام کو کہتے ہیں جو اتنی محنت سے کیا جائے جس کا اثر انسان کے جسم پر بھی محسوس ہونے لگے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ادھر وہ ایمان لایا تو اُدھر اُسے روحانیت میں کمال حاصل ہو جائے گا بلکہ اس کے لیے اُسے متواتر محنت اور جدوجہد کرنی پڑے گی۔اور قربانیوں کی ایک آگ میں سے اُسے گذرنا پڑے گا تب اُسے لقاء الہی کی نعمت میسر آئے گی۔“ ( تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ ۴۷۴ تا ۴۷۶) " حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: حدیث میں جو تشبیہ دی گئی ہے وہ رویت یعنی دیکھنے کی ہے نہ ذات باری تعالیٰ کی۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: ۱۲) اُس کی مانند کوئی شئی نہیں اور اُس رؤیت کا ادراک اِس دنیا میں اور ان آنکھوں سے کرنا ناممکن ہے۔“ (صحيح البخاري، كتاب مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ، بَابُ فَضْلِ صلاة العضير ، جلد۱، صفحه ۶۵۰) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جمہور اہل علم کے نزدیک اس آیت سے دیدار الہی بلا حجاب ثابت ہے۔