صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 806
صحیح البخاری جلد ۱۶ A+Y ۹۷۔کتاب التوحيد حاضر ہونے والے مومن بندوں کے مونہہ بڑے ہشاش بشاش اور خوبصورت ہوں گے اس لئے کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔اسی طرح قرآن کریم لقائے الہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَلَمَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَاثُوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ ايتِنَا غُفِلُونَ أُولَبِكَ مَا وَلَهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (یونس ع ١) یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی تڑپ اپنے دلوں میں نہیں رکھتے اور دنیا پر ہی راضی ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اس پر اُن کو اطمینان اور سکون حاصل ہو گیا ہے اور وہ لوگ جو ہمارے نشانوں سے غافل ہیں اُن کا ٹھکانہ اُن کے اعمال کے سبب سے جہنم ہو گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لقاء الہی کو روحانیت کی جان اور اسلام کا مغر قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب لقاء الہی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔انہیں ہم سزا دیں گے اور انہیں جہنم میں ڈالیں گے۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے کلام اور الہام کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور کوئی شخص امت محمدیہ میں ایسا نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ کے حضور ایسا مقام حاصل کر سکے کہ خدا اس سے بولنے لگ جائے۔حالانکہ یہی ایک مسئلہ ہے جو اسلام کی دوسرے مذاہب پر فوقیت ثابت کرنے والا ہے۔باقی مسائل کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب والے بھی کچھ نہ کچھ پیش کر دیتے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساحروں سے مقابلہ ہوا تو جادو گروں نے بھی مقابل میں رسیاں ڈال دیں اور گو اس میں اُن کو ناکامی ہوئی مگر بہر حال انہوں نے مقابلہ کیلئے کچھ نہ کچھ تو پیش کر دیا۔اسی طرح باقی مسائل کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب والے کچھ نہ کچھ باتیں پیش کر دیتے ہیں خواہ وہ غلط ہی ہوں مگر لقاء الہی ایک ایسی چیز ہے جس کے مقابل میں دوسرا کوئی مذہب کھڑا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر وہ اس کا دعویٰ کریں تو اُن کو ماننا پڑتا ہے کہ لقاء الہی اس دنیا میں بھی ہو سکتا ہے۔جس کا ثبوت وہ اپنے مذہب سے پیش نہیں کر سکتے۔اس صورت میں اُن کو لازما اسلام کی برتری تسلیم کرنی پڑتی ہے۔