صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 805
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۰۵ ۹۷۔کتاب التوحيد خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابقی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلاً اور خیالاً اور وہم زیادت متصور نہ ہو۔اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکدر الصورت اور ہالکۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے۔ان تجلیات عظمی اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کرسکتا۔اور وہ اشعہ تامہ کاملہ دائمہ اس میں سما نہیں سکتے بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسر ا عالم درکار ہے کہ جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔“ براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول بقیه حاشیہ نمبر ۱۱ صفحه ۴۵۲ تا ۴۵۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو دوسرے مذاہب اپنے پیرووں سے اللہ تعالیٰ کے وصال کا صرف وعدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وصال قیامت کے دن ہو گا۔مگر قرآن کریم اس نظریہ کو رڈ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لقاء الہی کا مرتبہ اسی دنیا میں انسان کو حاصل ہو سکتا ہے بلکہ وہ اس پر اتنا زور دیتا ہے کہ فرماتا ہے: مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى وَأَضَلُّ سَبِيلًا (بنى اسرائیل ع۸) یعنی جو شخص اس دنیا میں خد اتعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتا اور اس کو اپنے دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھتا وہ آخرت میں بھی اُسے نہیں دیکھ سکے گا۔اور سب سے بڑھ کر بھٹکا ہوا ہو گا۔اسی طرح فرماتا ہے: كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَبِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ( تطفيف ع۱) یعنی کفار قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے آنے سے روکے جائیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ دنیا میں اس سے محروم رہے تھے۔اس کے مقابلہ میں مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وُجُوهٌ يَوْمين ناضِرَة إلى ربّهَا نَاظِرَةٌ ) (سورة قيامة عا) اُس دن خدا تعالیٰ کے حضور میں