صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 58
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۸ ۸۹ - كتاب الإكراه فِعْلِ مَا أُمِرَ بِهِ وَقَالَ الْحَسَنُ التَّقِيَّةُ حکم کو بجالانے سے رُک نہیں سکتا جو اُسے دیا گیا يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ فِيمَنْ ہے۔اور حسن (بصری) نے کہا: تقیہ قیامت تک يُكْرِهُهُ اللصوص فَيُطَلِّقُ لَيْسَ بِشَيْءٍ رہے گا اور حضرت ابن عباس نے اس شخص کے وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَالشَّعْبِيُّ متعلق کہا جس پر چور زبر دستی کریں اور وہ طلاق دے دے، یہ کوئی طلاق نہیں۔اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر اور شیعی اور حسن نے بھی یہی فتوی دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل وَالْحَسَنُ۔وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ۔نیت پر ہی ہوتے ہیں۔٦٩٤٠: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۶۹۴۰: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد بن یزید سے ، خالد بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَسَامَةَ نے سعید بن ابی ہلال سے سعید نے ہلال بن اُسامہ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے انہیں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ خبر دی۔ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاسَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةَ اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور بْنَ هِشَامِ وَالْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ ولید بن ولیڈ کو نجات دے۔اے اللہ! ان مومنوں أَنْحِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ كونجات دے جو کمزور سمجھے جاتے ہیں۔اے اللہ ! مصر کو سختی سے لتاڑ اور اُن پر ایسے ( قحط کے) سال اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَابْعَثْ بھیج جو یوسف کے سے سال ہوں۔عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ۔أطرافه: ۷۹۷، ۸۰، ۱۰۰۶، ۲۹۳۲، ٣٣٨٦، ٤٥٦٠، ٤٥٩٨، ٦٢٠٠، 1393- تشريح : الأَمَن أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَين بالایمان مگر وہ جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔زیر بحث روایت نمبر ۶۹۴۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جن مظلوموں کے لئے دعا کا ذکر ہے یعنی (۱) حضرت عیاش بن ابی ربیعہ (۲) حضرت سلمہ بن ہشام (۳) اور حضرت ولید بن ولید ان کا مختصر تعارف یہ ہے: