صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 804 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 804

صحیح البخاری جلد ۱۶ A+ -92 ۹۷- كتاب التوحيد شريح۔قَوْلُ الله تَعَالَى وُجُوهٌ يَوْمَن نَاضِرَةٌ إلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اس دن بعض لوگ ہشاش بشاش ہوں گے۔اپنے خدا کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: فیضان اخص کے ظہور اور بروز کے لئے اوّل شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے۔بکلی معدوم اور منعدم ہو جائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے برہنہ طور پر اپنا کامل چمکارا دکھلاوے کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔یعنی نہ مفیض کے بالا رادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے۔اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا دہی روز روشن کی طرح کھل جائے اور شخص فیض یاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک الملک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمیٰ اور لذت کبریٰ اس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔کسی قسم کا امتحان اور ابتلا نہیں ہے۔اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابھی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے۔کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمی کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو۔اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے۔اور کوئی پر دہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔اور ہر یک دقیقہ معرفت تامہ کا مکمن قوت سے حیز فعل میں آ جائے۔اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس کی نسبت آپ