صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 801 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 801

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۰۱ ۹۷ - كتاب التوحيد اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِين صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بھی كَاذِبَةٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مار لیا تو وہ اللہ قَالَ عَبْدُ اللهِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ ہو گا۔حضرت عبد اللہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی كِتَابِ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّ الَّذِينَ اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق میں اللہ جل ذکرہ کی کتاب سے یہ آیت پڑھی۔یعنی جو لوگ اللہ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں قليلا أوليكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَ وووو تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں لا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ (آل عمران: ۷۸) الْآيَةَ۔کوئی حصہ نہیں ہو گا اور (قیامت کے دن) اللہ ان سے بات نہیں کرے گا۔أطرافه ٢٣٥٦، ۲۰۱٦، ۲۰۱۰، ٢٦٦٦، ٢٦٦٩، ٢٦٧٣، ٢٦٧٦، ٤٥٤٩، 6659، -٦٦٧٦، ٧١٨٣ ٧٤٤٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۷۴۴۶: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو سے ، عمرو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا ہے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: تین شخص ہیں جن سے اللہ قیامت کے روز بات نہیں کرے گا اور نہ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ ان کی طرف دیکھے گا۔ایک وہ شخص جس نے أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ تجارتی سامان کے بیچنے کے لئے قسم کھائی کہ اسے كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ اس کا اس سے زیادہ دیا جاتا تھا جو اس کو (اب) وہ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ دے رہا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور ایک امْرِي مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ جس نے عصر کی نماز کے بعد جھوٹی قسم کھائی فَيَقُولُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ تا کہ اس کے ذریعہ سے کسی مسلمان آدمی کا مال