صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 799 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 799

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۹۹ -92 ۹۷- كتاب التوحيد حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ حق ہے اور تیر اوعدہ بھی حق ہے اور تیری ملاقات لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ بھی حق ہے اور جنت بھی حق ہے اور آگ بھی حق تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ ہے اور وہ گھڑی بھی حق ہے۔اے اللہ ! میں نے حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا اپنے تیں تیرے سپر د کیا اور تجھ پر میں ایمان لایا أَخَرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ اور تجھ ہی پر میں نے بھروسہ کیا اور تیرے أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔قَالَ حضور ہی میں اپنا جھگڑا لایا ہوں اور تیرے ہی أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ طفیل میں نے فیصلہ چاہا ہے اس لئے پردہ پوشی وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ قَيَّامُ۔وَقَالَ فرماتے ہوئے مجھ سے در گزر فرما۔ان کاموں مُجَاهِدٌ الْقَيُّومُ (البقرة: ۲۵۲) الْقَائِمُ میں بھی جو پیچھے کرنے کے تھے میں نے پہلے کئے : اور جو میں نے دیر سے کئے اور جو میں نے عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَأَ عُمَرُ الْقَيَّامُ وَكِلَاهُمَا مَدْحٌ۔أطرافه: -٧٤٩٩ ،۷۳۸۵ ،۶۳۱۷ ،۱۱۲۰ چھپائے رکھا اور جن کا میں نے اعلان کیا اور وہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ بڑھ کر جانتا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: قیس بن سعد اور ابو زبیر نے طاؤس سے (بجائے قیم کے ) قیام نقل کیا۔اور مجاہد نے کہا: القیوم کے معنی ہیں وہ جو ہر چیز پر نگران ہو اور حضرت عمر نے قیام پڑھا۔اور یہ دونوں تعریف ہی ہیں۔٧٤٤٣: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۷۴۴۳ یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشِ کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے مجھ سے عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ بیان کیا۔اعمش نے خیثمہ سے، خیثمہ نے حضرت قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عدی بن حاتم سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر