صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 797
صحيح البخاری جلد ١٦ ۷۹۷ ۹۷- كتاب التوحيد الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّی گا۔ پھر تیسری بار لوٹوں گا اور اپنے رب کے سامنے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اس کی درگاہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ جب میں اس کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا کہ میں سجدے میں رہوں میں سجدے میں رہوں گا۔ پھر اللہ کہے گا: محمد ! سر اٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: تب میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ کچھ حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ فرمایا: پھر میں سفارش کروں گا اور وہ میرے لئے ایک حد مقرر کرے گا۔ میں وہاں سے لے کر ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ قتادہ کہتے تھے: میں نے حضرت انس سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: میں ان کو لے کر آگ سے نکالوں گا اور جنت میں لے جاؤں گا یہاں تک کہ آگ میں صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کو قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی جن پر ہمیشہ رہنا لازمی ہو گا۔ (حضرت انس کہتے تھے :) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: یعنی بالکل متوقع ہے کہ تیر ارب تجھے حمد والے مقام پر کھڑا کر دے۔ حضرت انس کہتے تھے: اور یہی وہ مقام محمود ہے جس کا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ أطرافه: ٤٤ ، ٤٤٧٦، ٦٥٦٥ ، ٧٤١٠، ٧٥٠٩، ٧٥١٠، ٧٥١٦۔