صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 57 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 57

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۵۷ ۸۹ - كتاب الإكراه عَظِيمُ (النحل : ١٠٧) وَقَالَ اِلَّا اَنْ اُن کے لئے بڑا بھاری عذاب (مقدر) ہے۔اور تَتَّقُوا مِنْهُم ثقةً (ال عمران: ۲۹) وَهِيَ فرمایا: سوائے اس کے کہ تم ان سے کچھ بچاؤ کرو۔تَقِيَّةٌ وَقَالَ إِنَّ الَّذِينَ تَوَقُهُمُ الْمَلكَةُ اور ثقة بمعنی تقيّة ہے یعنی بچاؤ کرنا۔اور فرمایا: ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِیمَ كُنْتُمْ قَالُوا وہ لوگ جن کو ملائکہ ایسی حالت میں وفات دیتے كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ ہیں کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہوتا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ تم کس دھن میں رہے ؟ تو وہ کہتے ہیں: عَفُوا غَفُورًا (النساء : ٩٨ - ١٠٠) ہم ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے ، وہ (فرشتے) جواب دیں گے: کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ اُن لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ رہنے کے لحاظ سے بہت (ہی) بُری جگہ ہے۔ہاں وہ لوگ جو مردوں عورتوں اور بچوں میں سے فی الواقع کمزور تھے (اور) وہ کسی تدبیر کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ کوئی راہ انہیں نظر آتی تھی۔ان لوگوں کے متعلق خدا کی بخشش قریب ہے کیونکہ اللہ ہے ہی بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا۔وَقَالَ: وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ اور فرمایا: اور (تم کیوں) ان کمزور مردوں اور وَالنِّسَاءِ وَالوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا عورتوں اور بچوں کی راہ میں جنگ نہیں کرتے) أخْرِجْنَا مِنْ هذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا: جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی وَاجْعَلْ لَنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَ اجْعَلْ لَنَا سے کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال، اور اپنی جناب سے ہمارا کوئی دوست بنا کر بھیج) اور مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (النساء: ٧٦) فَعَذَرَ اپنے حضور سے (کسی کو) ہمارا مددگار بنا کر کھڑا اللَّهُ الْمُسْتَضْعَفِينَ الَّذِي لَا يَمْتَنِعُونَ کیا۔اس آیت میں اللہ نے ان کمزور لوگوں کو اللہ مِنْ تَرْكِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ وَالْمُكْرَهُ لَا کے احکام نہ بجالانے سے معذور قرار دیا ہے اور يَكُونُ إِلَّا مُسْتَضْعَفًا غَيْرَ مُمْتَنِعٍ مِنْ جس پر جبر کیا جاتا ہے وہ کمزور ہی ہوتا ہے۔وہ اس