صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 793
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۹۳ ۹۷۔کتاب التوحيد عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ کو کلے کی طرح ہو گئے ہوں گے۔وہ ایک ندی لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ۔میں ڈال دیئے جائیں گے جو جنت کے دہانے پر ہو گی اسے آب حیات کہیں گے۔وہ اس ندی کے دونوں طرف اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے دیوان میں دانہ اگتا ہے۔تم نے اس دانے کو دیکھا ہو گا کہ پتھر کے پہلو میں بھی اگتا ہے، کبھی درخت کے پہلو میں اگتا ہے۔جو تو اُن میں سے سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے اور جو سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے۔غرض وہ اس نہر میں سے نکلیں گے ایسے ہوں گے جیسے کہ موتی اور ان کی گردنوں پر مہریں کر دی جائیں گی اور وہ جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی کہیں گے: یہ رحمان کے آزاد کردہ لوگ ہیں اس نے ان کو جنت میں بغیر کسی عمل کے کہ جو اُنہوں نے کیا ہو یا بھلائی کے جو انہوں نے پیش کی ہو ان کو جنت میں داخل کر دیا ہے۔پھر ان سے کہا جائے گا: تمہارے لئے یہ سب کچھ ہے جو تم نے دیکھ لیا ہے اور اس کے ساتھ اتناہی اور۔أطرافه : ۲۲ ،٤٥۸۱ ٤٩١٩ ٦٥٦٠، ٦٥٧٤، ٧٤٣٨- ٧٤٤٠: وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَال ۷۴۴۰: اور حجاج بن منہال نے کہا کہ ہمام بن يحي حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ نے ہم سے بیان کیا۔قتادہ نے حضرت انس رضی عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ الله عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْبَس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز مؤمنوں