صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 792
صحیح البخاری جلد ١٦ ۷۹۲ ۹۷- كتاب التوحيد فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَإِنْ لَّمْ تُصَدِّقُونِي ہمارے ساتھ دوسرے عمل بجالاتے تھے۔ تو اللہ فَاقْرَءُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ کہے گا: جاؤ جس کے دل میں بھی تم دینار کے برابر ذَرَّةٍ وَ إِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضْعِفُهَا ایمان پاؤ اس کو نکالو اور اللہ آگ پر ان کے مونہوں کو حرام کر دے گا۔ تو وہ ان کے پاس (النساء: ٤١) فَيَشْفَعُ النَّبِيُّونَ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ آئیں گے اور حالت یہی ہو گی کہ ان میں سے کوئی آگ میں اپنے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہو گا اور کوئی اپنی بَقِيَتْ شَفَاعَتِي فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ آدھی پنڈلیوں تک۔ تو جن کو وہ پہچانیں گے ان النَّارِ فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا کو وہ نکال لیں گے۔ پھر وہ لوٹیں گے تو اللہ فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ بِأَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ فرمائے گا: جاؤ جس کے دل میں بھی آدھے دینار لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِي حَافَتَيْهِ کے برابر ایمان تم پاؤ اس کو بھی نکال لو۔ تو جن کو كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وہ پہچانیں گے ان کو نکال لیں گے۔ پھر وہ لوٹیں قَدْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ گے اور اللہ فرمائے گا: جاؤ جس کے دل میں ذرہ وَإِلَى جَانِبِ الشَّجَرَةِ فَمَا كَانَ إِلَى ايمان تم پاؤ اس کو بھی نکال لو ۔ جن کو وہ پہچانیں گے ان کو وہ نکال لیں گے۔ حضرت ابو سعید نے الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ وَمَا كَانَ کہا: اگر تم مجھے سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ لو: ان الله مِنْهَا إِلَى الظَّلِّ كَانَ أَبْيَضَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَ إِنْ تَكُ حَسَنَةً فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ اللُّؤْلُؤُ فَيُجْعَلُ فِي تُضْعِفُها له غرض نبی اور فرشتے اور مؤمن رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ سفارش کریں گے اور جبار کہے گا: میری سفارش فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ باقی رہ گئی ہے تو آگ سے ایک مٹھی بھرے گا الرَّحْمَنِ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ اور بہت سے لوگوں کو نکال دے گا جو جل کر ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقینا اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی کی بات ہو تو وہ اسے بڑھاتا ہے۔“