صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 787
صحیح البخاری جلد ۱۶ CAL ۹۷۔کتاب التوحيد به فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللهُ لَهُ تَمَنَّهْ فَسَأَلَ تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جو چاہے گا وہ وہ رَبَّهُ وَتَمَنَّى حَتَّى إِنَّ اللهَ لَيُذَكِّرُهُ عهد و پیمان دے گا۔اس پر اللہ تعالیٰ اس کو جنت يَقُولُ كَذَا وَكَذَا حَتَّى انْقَطَعَتْ کے دروازے کے قریب آگے کر دے گا۔جب الْأَمَانِيُّ قَالَ اللهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ وہ جنت کے دروازے کے پاس کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے اپنی پوری فراخی کے ساتھ عیاں ہو گی اور وہ اس میں وہ آرام اور خوشی دیکھے گا جو مَعَهُ۔أطرافه: ٨٠٦، ٦٥٧٣ - اس میں ہے جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ خاموش رہے وہ خاموش رہے گا۔پھر کہے گا: اے اللہ ! مجھے جنت میں داخل فرما۔تو اللہ فرمائے گا: کیا تم اپنے عہد و پیمان نہیں دے چکے کہ تم اس کے سوا جو تمہیں دیا گیا ہے اور کچھ نہیں مانگو گے ؟ اور وہ فرمائے گا: ابن آدم تم پر افسوس کتنے ہی دغاباز ہو تم۔تو وہ کہے گا: اے میرے رب! تیری مخلوق سے سب سے بد نصیب میں نہیں ہوں گا اور وہ برابر دعائیں کرتارہے گا یہاں تک کہ اللہ اس کی اس حالت سے ہنسے گا اور ہنستے ہی اسے فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔جب وہ اس میں داخل ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: مانگ جو دل چاہتا ہے تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور اپنی دلی خواہش کا اظہار کرے گا یہاں تک کہ اللہ اس کو یاد دلاتا جائے گا۔فرمائے گا: یہ بھی مانگ بھی مانگ۔یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی۔اللہ فرمائے گا: تمہیں یہ سب کچھ دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اتناہی اور بھی۔